اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی) :قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ قومی توانائی بچت و تحفظ پالیسی 2023 توانائی کی بچت کے فروغ کے لیے نافذ العمل ہے، 88 ملین زیادہ بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں کو کم توانائی استعمال کرنے والے پنکھوں سے تبدیل کیا جارہاہے۔پیرکو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شائستہ پر ویرملک کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری عامرطلال خان نے ایوان کو بتایا کہ قومی توانائی بچت و تحفظ پالیسی 2023 توانائی کی بچت کے فروغ کے لیے نافذ
العمل ہے، پالیسی نہ صرف صنعتی سطح پر موثر آلات کی تیاری اور برقی توانائی کے استعمال میں بہتری کے ذریعے توانائی کی بچت بلکہ قومی سطح پر بھی بجلی کے صارفین کے ذریعے توانائی کی بچت کو فروغ دیتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم فین ری پلیسمنٹ پر وگرام جاری ہے جس کا ہدف آئندہ 10 برسوں کے دوران آن بل فنانسن میکانزم کے ذریعے 88 ملین زیادہ بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں کو کم توانائی استعمال کرنے والے پنکھوں سے تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صنعتی شعبے کے توانائی آڈٹس کو صرف قواعد و ضوابط کے اعلان کے بعد ایک قانونی نظام کار کے تحت ہی عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ نعیمہ کشورخان کے ضمنی سوال پر انہوں نے کہاکہ وزیراعظم فین ری پلیسمنٹ پر وگرام پر مرحلہ وارعمل درآمدکیا جارہاہے اورمجموعی طورپر88 ملین پنکھوں کو تبدیل کیا جائیگا، مقامی صنعتوں کو بھی توانائی کی بچت والے پر زے استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہے۔نبیل گبول کے ضمنی سوال پر انہوں نے کہاکہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کے معاملہ پر وزیربجلی کراچی کے ایم این ایز سے میٹنگ کریں گے۔
