اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کےچیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے معرکۂ حق کوپاکستان کی جدید تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتےہوئےانہوں نے کہا کہ یہ واقعہ قومی تاریخ میں اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے اور اس نے ملک کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق قوم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے اور تمام سول اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکے،تعلیم کے
شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اس انداز میں ترقی دینا ہوگا کہ وہ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرے جس سے معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔انہوں نے سول اور عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی بصیرت افروز قیادت کے باعث نہ صرف دشمن کو مؤثر جواب دیا گیا بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جن میں مغرب کی جانب سے پاکستان کے بارے میں بیانیے میں مثبت تبدیلی بھی شامل ہے جس سے سماجی اور ترقیاتی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ ادارے نے مختلف ممالک کے ساتھ تعلیمی تبادلے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جو ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔انہوں نےکہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہےاس لیے پاکستان کو اپنے نوجوانوں کو جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہوگا جو مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، پُرجوش اور محنتی ہیں، اور انہیں چاہیے کہ وہ جدت، جدید طریقوں اور تخلیقی سوچ کو اپنائیں تاکہ ملک کی معاشی، سماجی اور تکنیکی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

