لاہور(نمائندہ خصوصی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان فعال سفارتکاری اور تعمیری عالمی و علاقائی روابط کے ذریعے ایک امن پسند ملک کے طور پر ابھرا ہے اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں مقامی ہوٹل میں ساوتھ ایشیئن فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (سافا) اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاونٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے)کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ سافا انٹرنیشنل سمٹ 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمٹ میں صدر سافا ہمایوں کبیر، صدر آئی سی ایم اے عظیم حسین صدیقی، نائب صدر آئی سی ایم اے و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی سافا انٹرنیشنل سمٹ محمد یاسین سمیت بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور دیگر رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرینِ مالیات، پالیسی
سازوں، ریگولیٹرز، کارپوریٹ رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان جسے ماضی میں سفارتی تنہائی اور دہشت گردی سے متاثر ملک سمجھا جاتا تھا آج دنیا میں امن و استحکام اور تعمیری سفارتکاری کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت احتساب کے فروغ، کارکردگی میں بہتری، ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ اسحاق ڈار نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، کلاڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس دنیا بھر میں اکاؤنٹنگ اور مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹنٹس کو جدید تقاضوں کے مطابق اپنی مہارتوں میں اضافہ اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط مالی حکمرانی اور شفاف رپورٹنگ معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کے لیے ناگزیر ہیں۔ اسحاق ڈار نے ساوتھ ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس کو علم کے تبادلے اور اکاونٹنگ کے شعبے میں عالمی معیار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا۔انہوں نے خلیجی خطے کی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 47برس بعد براہ راست مذاکرات میں اہم سفارتی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفتر خارجہ نے ممکنہ عالمی تنازع کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے، جنگ بندی اور اس میں توسیع کے معاہدوں میں معاون ثابت ہوا جس سے جنگ اور توانائی بحران سے متاثر ہزاروں افراد کو ریلیف ملا۔انہوں نے کہا کہ پیشہ ور اکاونٹنٹس اور مالیاتی ماہرین صرف معاشی نظم و نسق ہی نہیں بلکہ سفارتکاری، حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤٹنٹس آف پاکستان کو 75 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں ہونے والی گفتگو خطے بھر میں اکاؤنٹنگ کے شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے غیر ملکی مندوبین کو اسلام آباد اور شمالی پہاڑی علاقوں کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں پاکستان آنے والے متعدد بین الاقوامی مہمان ملک کی خوبصورتی اور مہمان نوازی سے بے حد متاثر ہوئے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اکاؤنٹنسی کا شعبہ صرف مالیاتی امور تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ معاشی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی، عوامی اعتماد کی بحالی اور پائیدار ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے دور میں اکاؤنٹنٹس، مالیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا ءکو اس وقت اقتصادی چیلنجز، موسمیاتی تبدیلی، توانائی بحران، قرضوں کے دبا واور عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط مالیاتی نظم و نسق، شفاف احتسابی نظام اور موثر پبلک فنانشل مینجمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اکاؤنٹنسی کا پیشہ ریاستی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان اعتماد سازی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سافا انٹرنیشنل سمٹ جیسے فورمز خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، بہترین مالیاتی و انتظامی پالیسیوں کے تبادلے اور علاقائی تعاون کے فروغ کا موثر موقع فراہم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی اور جامع اقتصادی استحکام کے لیے ادارہ جاتی مضبوطی، شفافیت اور گڈ گورننس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود اصلاحات کے عمل کو جاری رکھا اور معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کیا۔ انہوں نے مالیاتی ماہرین، اکاؤنٹنٹس اور کارپوریٹ اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔عالمی صورتحال اور خطے میں امن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے دنیا کو ممکنہ عالمی تصادم سے بچانے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مثبت اور ذمہ دارانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بات چیت، سفارتی روابط اور پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار عالمی امن اور اقتصادی ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خودکار مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے اکاؤنٹنسی کے شعبے کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔مقررین نے کہا کہ مستقبل کی معیشت میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ڈیٹا اینالیٹکس، پائیدار کاروباری ماڈلز اور ماحول دوست معاشی پالیسیوں کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔سمٹ کے دوران مختلف اہم موضوعات پر کلیدی سیشنز اور پینل مباحثے بھی منعقد کیے گئے جن میں علاقائی معاشی انضمام، پبلک سیکٹر گورننس، ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی حکمتِ عملیاں، کاربن پرائسنگ، ماحولیاتی و سماجی ذمہ داریاں، پائیدار اقتصادی ماڈلز اور بدلتی ہوئی دنیا میں اعتماد کی بحالی جیسے موضوعات شامل تھے۔پاکستان اور بیرونِ ملک سے آئے ہوئے ماہرینِ مالیات، پالیسی سازوں اور کارپوریٹ نمائندوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل فنانس، گورننس اصلاحات، پبلک فنانشل مینجمنٹ اور اکاؤنٹنگ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اخلاقی قیادت، شفافیت اور انسانی اقدار کو برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔تقریب کے موقع پر آئی سی ایم اے پاکستان کی 75 سالہ تقریبات کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا، جس میں ادارے کی پیشہ ورانہ خدمات، گورننس اصلاحات، پائیداری کے فروغ اور پاکستان سمیت خطے میں اکاونٹنسی کے شعبے کی ترقی کے لیے کردار کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر سافا کے رکن اداروں اور علاقائی قیادت نے جنوبی ایشیا میں پائیدار اور جامع معاشی مستقبل کے لیے باہمی تعاون، علم کے تبادلے، اخلاقی قیادت، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی استحکام کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
