اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس میں قومی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کا انعقاد پاکستان علما کونسل نے بین الاقوامی تعظیم حرمین شریفین کونسل کے اشتراک سے جناح کنونشن سینٹر میں کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید، فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد احمد حسین، چیف جسٹس فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش سمیت سعودی عرب، فلسطین اور دیگر ممالک کے اعلیٰ نمائندوں، علمائے کرام اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حکومت پاکستان، مسلح افواج اور قومی سلامتی کے اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قوم کو حالیہ کامیابیوں خصوصاً ’’معرکہ حق، بنیان مرصوص‘‘ میں فتح پر مبارکباد بھی دی جس کی پہلی سالگرہ ملک بھر اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منائی جا رہی ہے۔

انہوں نے امت مسلمہ میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے علاقائی امور پر مؤقف کی توثیق کی جس میں ایران اور عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملوں کی شدید مذمت کی اور عرب ممالک پر ہونے والے حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خطے کے استحکام کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مسلم دنیا کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ساتویں بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس مارچ 2027 میں منعقد کی جائے گی، جس میں عالمی مذہبی شخصیات بشمول امام حرم مکہ، فلسطین کے مفتی اعظم شیخ الازہر اور پوپ کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ کانفرنس میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی کے قتل کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ تشدد، بھتہ خوری اور لاقانونیت کا اسلام اور شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔ اعلامیہ میں امن و امان کے قیام کے لئے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اختتامی مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے علما کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور بین الاقوامی تعظیم حرمین شریفین کونسل کے تحت دنیا کے مختلف حصوں میں اسی نوعیت کی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ کانفرنس کے دوران نمایاں قومی و بین الاقوامی
شخصیات کو مسلم دنیا میں امن، استحکام اور اتحاد کے فروغ کے اعتراف میں عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’’لیڈر آف پیس‘‘ اور ’’اس صدی کے عظیم ترین فاتح جرنیل‘‘ کے القابات سے نوازا گیا جو ان کی امن کے فروغ اور امت مسلمہ میں استحکام کے لئے خدمات کا اعتراف ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو فلسطین سمیت اہم بین الاقوامی امور پر ان کے دو ٹوک اور واضح مؤقف کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔ اسی طرح سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود جنہیں ’’گلوبل پرسنالٹی آف 2025‘‘ کا اعزاز دیا گیا ہے، کو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون، مسلم دنیا کے اتحاد اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔کانفرنس کا آخری سیشن ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس کے بعد بین الاقوامی مندوبین اپنے اپنے ممالک کے لئے روانہ ہوں گے۔

