اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک میں صاف توانائی، بیٹریز، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے لیے درکار اہم معدنیات کی سپلائی چینز کی ترقی کے لیے ایک نئی مالیاتی سہولت متعارف کرا دی ہے۔اے ڈی بی کے صدر مساتو کنڈا نے بینک کے 59ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہم معدنیات آئندہ صنعتی دور کی سمت کا تعین کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا اور بحرالکاہل کو صرف خام مال فراہم کرنے والے خطے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ان معدنیات سے جڑے روزگار، ٹیکنالوجی اور معاشی قدر سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ سہولت فوری اور منصفانہ بنیادوں پر ذمہ دار سپلائی چینز کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک جدید مینوفیکچرنگ میں مقابلہ کر سکیں
اور مقامی سطح پر معاشی مواقع پیدا ہوں۔“کریٹیکل منرلز ٹو مینوفیکچرنگ فنانسنگ پارٹنرشپ فیسلٹی” کا مقصد خطے کو صرف کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے پراسیسنگ، مینوفیکچرنگ اور ری سائیکلنگ جیسے زیادہ قدر والے شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس کے تحت منصوبہ بندی، پالیسی اصلاحات، عوامی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا۔اس سہولت کے دو حصے ہیں جن میں گرانٹ ونڈو اور کیٹالیٹک فنانس ونڈو شامل ہیں۔ گرانٹ ونڈو کے تحت ابتدائی منصوبہ جاتی کام جیسے فیزیبلٹی اسٹڈیز، ماحولیاتی و سماجی جائزے اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔جاپان کی حکومت نے اس کے لیے 20 ملین ڈالر جبکہ برطانیہ نے 1.6 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔کیٹالیٹک فنانس ونڈو کا مقصد دیگر مالیاتی شراکت داروں کی شمولیت اور رسک شیئرنگ کو فروغ دینا ہے۔ اس ضمن میں کوریا ایکسِم بینک اور کورین ٹریڈ انشورنس کارپوریشن (کے-سُور) نے 500، 500 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔یہ اقدام اے ڈی بی کی 2025 حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت خطے میں ذمہ دار اور پائیدار اہم معدنیات سے متعلق ویلیو چینز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔بینک اس وقت بھارت میں بیٹری مینوفیکچرنگ و ری سائیکلنگ،منگولیا میں جیولوجیکل ڈیٹا میپنگ، ازبکستان میں اے آئی پر مبنی دھاتوں کی پیداوار،قازقستان میں معدنیات کی حکمت عملی اور فلپائن میں پالیسی اصلاحات جیسے منصوبوں کی معاونت کر رہا ہے۔اے ڈی بی نے شراکت داروں کے ساتھ مل کر “کریٹیکل منرلز ڈیٹا بیس” بھی قائم کیا ہے تاکہ سپلائی چینز سے متعلق معلومات کو بہتر بنایا جا سکے اور پالیسی سازی میں ہم آہنگی پیدا ہو۔بینک کے مطابق اس سہولت کے تحت تمام منصوبے سخت ماحولیاتی اور سماجی معیارات، جانچ پڑتال اور اثرات کے جائزے کے تابع ہوں گے تاکہ صاف توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

