اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان-افغانستان سرحد پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق برطانوی خصوصی نمائندہ کی سوشل میڈیا پوسٹ یکطرفہ ریمارکس،سرحدی صورتحال کی گہری سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے بلا امتیاز اور بلا اشتعال سرحد پار حملوں اور افغان طالبان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز کی پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں باون شہری شہید اور چوراسی زخمی ہوئے ہیں۔برطانوی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے ہم نے پاکستان-افغانستان سرحد پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق برطانوی خصوصی نمائندہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کا جائزہ لیا ہے۔ یہ یکطرفہ ریمارکس سرحدی
صورتحال کی گہری سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔افغانستان کی جانب سے سرحد پار جارحیت اور دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں پاکستان کی جانب سے مارچ 2026 میں اعلان کردہ عارضی وقفے کے باوجود بلا تعطل جاری رہی ہیں۔اس دوران افغان طالبان کی جانب سے بلا امتیاز اور بلا اشتعال سرحد پار حملوں اور افغان طالبان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز کی پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں باون شہری شہید اور چوراسی زخمی ہوئے ہیں۔ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کو مؤثر جواب دیا ہے جس میں افغان طالبان کی چوکیوں اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان جانب سے دراندازی کی متعدد کوششوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔پاکستان کے ردعمل کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں سے متعلق افغان دعوے شواہد کی بنیاد پر قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے غیر ضروری بیانات، جن میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کیا جائے، متوازن اور معروضی نقطۂ نظر فراہم نہیں کرتے۔ہم علاقائی صورتحال، پاکستان کے اصولی مؤقف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی بے مثال قربانیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

