اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان سے 26 اور 29 اپریل کو بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی جبکہ رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد سے موصول ہونے والی نہایت تشویشناک اطلاعات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی
اس علاقے میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ 26 اور 29 اپریل کو ضلع بنوں سے ملحق جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں بشمول انگور اڈہ میں افغان فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا، زخمیوں میں خواتین اور کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مقامی قبائلی عمائدین اور رہائشیوں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کی سخت مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں شہری زخمی ہوئے۔ ترجمان نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کی مدد کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے واقعات کی روک تھام کےلئے کوششیں جاری ہیں۔
