نئی دہلی ۔(نمائندہ خصوصی):بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں برکس پلس ممالک کے حالیہ اجلاس میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر شدید اختلافات سامنے آئے۔کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا ، جسے مبصرین بھارت کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑادھچکا قرار دے رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی میں برکس نائب وزرائے خارجہ کا اجلاس خطے کے اہم مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ اجلاس مکمل طور پر انتشار کا شکار
ہوگیااوررکن ممالک کے درمیان شدید اختلافات کے باعث کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا جاسکا۔جس سے بھارت کی قیادت کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔اطلاعات کے مطابق اجلاس کے دوران اسرائیل-فلسطین جنگ، غزہ کی سنگین انسانی صورتحال، ایران سے متعلق امور اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی پر مختلف موقف سامنے آئے۔اجلاس کے دوران فلسطین پر اسرائیلی جارحیت ، غزہ میں انسانی امداد، لبنان میں جنگ بندی، اقوام متحدہ کے امن مشن اور مشرق وسطی کے دیگر تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث کسی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ بعض ممالک نے سخت موقف اپنانے کی حمایت کی جبکہ دیگر نے محتاط اور متوازن حکمت عملی پر زور دیا۔ اسی طرح مقامی کرنسیوں میں تجارت اور ممکنہ مشترکہ کرنسی جیسے معاملات پر بھی مختلف آرا سامنے آئیں ۔بھارت نے برکس ممالک کی اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی جائے۔

