لاہور۔( نمائندہ خصوصی):محکمہ سیاحت پنجاب کے زیرِ اہتمام صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے میگنیفیسنٹ پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ ایکسپو کے دوران میگنیفیسنٹ پنجاب کے تحت کامران کی بارہ دری، کوٹلی ستیاں،میگنیفیسنٹ پنجاب ایپ،پنجاب ٹورازم کافی ٹیبل بک،ٹی ڈی سی پی چیوڑا ریزورٹ کوٹلی ستیاں،ٹری ہاس پتریاٹہ،واٹر سپورٹس کلر کہار ،دھرابی لیک،پنجاب ٹورازم فورس،ملتان میوزیم،سیالکوٹ میوزیم اورسیاحتی مقامات کو عوام کے لیے کھولنے کی باضابطہ لانچنگ بھی کی گئی۔تقریب میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، وزیر تعلیم سکندر حیات، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر، وزیر سی اینڈ ڈبلیو صہیب احمد بھرت، وزیر آبپاشی محمد قاظم علی پیرزادہ، وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی، وزیرِ اعلی کے مشیر علی مصطفی ڈار اور چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے خصوصی شرکت کی۔ایکسپو میں ڈومیسٹک، نیشنل اور انٹرنیشنل سیاحت، مذہبی سیاحت، ایکو
ٹورازم، کلچرل و نیچرل ٹورازم،ثقافت، آثارِ قدیمہ، ہیریٹیج ٹورازم، ہینڈی کرافٹس، ہوٹلنگ، وائلڈ لائف اور پنجاب آرکیالوجی کے شعبوں کو منفرد اور دلکش انداز میں پیش کیا گیا۔ پنجاب کے ثقافتی رنگوں کو روایتی پرفارمنسز کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔سینئر صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ پاکستان کی پہلی ٹورازم ٹریل پر مبنی جامع ایکسپو ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل یہ سیاحتی مقامات خستہ حالی کا شکار تھے، تاہم وزیراعلی کے ویژن کے تحت سیاحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹورازم سیکٹر کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے 78 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ٹورازم کے لیے 170سائٹس پر بحالی،تحفظ اور ترقی کا کام کیا جارہا ہے،انہوں نے میگنیفیسنٹ پنجاب ایپ کو ڈاون لوڈ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایپ مستقبل میں مکمل ٹورازم ایکو سسٹم فراہم کرے گی، جس میں انفراسٹرکچر، تاریخی مقامات، وائلڈ لائف اور ایکو ٹورازم،کلچر،مذہب،اثارقدیمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ای سی او کی جانب سے لاہور کو 2027 کے لئے ٹورازم کیپیٹل بھی قرار دیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھانگا مانگا، بانسرا گلی اور جلو جیسے مقامات پر سیاحت کو جدید
سہولیات کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ ان سائٹس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے گا اور مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب ٹورازم اتھارٹی کے قیام کا مقصد سیاحت کی بحالی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پاکستان کے ٹورازم کو عالمی سطح پر بطور اکانومی لیجاناچاہتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کلر کہار، درابی اور کھبیکی جیسے مقامات کو ترقی دی جا رہی ہے جبکہ ہڑپہ اور ٹیکسلا کو ہیریٹیج سٹی قرار دیا گیا ہے۔ آئندہ تین برسوں میں سیاحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ رواں سال دسمبرتک 170میں سے 60 سیاحتی مقامات کو مکمل فعال کیا جائے گا جبکہ جون تک 38 سائٹس تیار ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو عالمی سیاحت کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا حکومت کا ہدف ہے اور فلم سٹی اور اسکرین ٹورازم جیسے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔مری میں سیاحتی مقامات کی ترقی و بحالی پر کام جاری ہے اور لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نیلا گنبد سمیت مختلف تاریخی مقامات کو ٹریلز کے ساتھ اپگریڈ کیاجارہا ہے,سیکرٹری سیاحت سقراط امان رانا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں 70 ریزورٹس اور 5 میوزیمز پر کام جاری ہے جبکہ 17 ریزورٹس کو اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میگنیفیسنٹ پنجاب ڈیش بورڈ کے ذریعے تمام منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔مزید برآں 170 سیاحتی مقامات پر مذہبی، ایکو، کلچرل، تاریخی اور وائلڈ لائف ٹورازم کی سات مختلف کیٹیگریز کے تحت ترقیاتی کام جاری ہیں۔ پنجاب ہیریٹیج ٹورازم اتھارٹی اور ٹورازم فورس کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ایکسپو میں ٹیکسلا، ہڑپہ، موج گڑھ، دراوڑ فورٹ، لاہور میوزیم، سیالکوٹ میوزیم، چیوڑا، کوٹلی ستیاں، کلر کہار، جلو، چھانگا مانگا اور کوٹ ادو سمیت متعدد سیاحتی مقامات کی ترقیاتی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ واٹر ٹورازم اور ریزورٹس اپ گریڈیشن پر 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ایکسپو میں آثارِ قدیمہ کے نوادرات، شمالی علاقہ جات اور دیگر خطوں کی سیاحت، ہینڈی کرافٹس، تعلیمی و تحقیقی اداروں کی شرکت، انٹرنیشنل و نیشنل ٹورازم کمپنیز، یونیورسٹی طلبا و طالبات اور یوتھ پنجاب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع بھی متعارف کروائے گئے۔میگنیفیسنٹ پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو 2026 نے نہ صرف پنجاب کے سیاحتی مقامات کو اجاگر کیا بلکہ صوبے کو عالمی سطح پر ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
