• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل افیئرز انڈیا

تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں: پاکستان میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 23, 2026
in انڈیا, پاکستان
0
تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں: پاکستان میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پشاور۔ ( نمائندہ خصوصی):عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان میں سیلاب کے خطرات نے کسانوں کو خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ جیسے جیسے گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے، کسانوں کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان ہی کسانوں میں سے ایک کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ صلاح الدین خان بھی ہیں جن کو 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں یاد ہیں اور اپنے نقصانات کا ذکر کرتے ہیں۔ کوہاٹ کے علاقے خوشحال گڑھ سے تعلق رکھنے والے کسان صلاح الدین خان دریائے سندھ میں پانی کے بتدریج اضافے کو خوف کے ایک جانی پہچانی احساس کے ساتھ دیکھتے ہیں جس کی وجہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل ہونے والی خلاف ورزیاں ہیں۔ صلاح الدین اور دیگر کسانوں کے امرود اور تربوز کے باغات جو کبھی آمدنی کا ایک قابلِ بھروسہ ذریعہ تھے، 2022 کے سیلاب میں بپھرے ہوئے پانی کی نذر ہو گئے تھے جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی اور اقتصادی نقصان پہنچا تھا۔ اب جیسے جیسے موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور شمال میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، انہیں ڈر ہے کہ کہیں تاریخ خود کو نہ دہرا لے۔ صلاح الدین کہتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا اور اپنے والد کے ساتھ یہاں آتا تھا، تو دریا معمول کے مطابق بہتا تھا۔اب پانی کی سطح بلند ہے اور غیر یقینی ہے۔ صلاح الدین اپنے تربوز کی فصل کو پانی دینے کے دوران وقفہ لیتے ہوئے کندھے پر کدال رکھے کہتے ہیں کہ اس سال میری پریشانیاں دگنی ہو گئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم امرود، خربوزے، جو، آڑو اور خوبانی اگاتے ہیں، تاہم دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہوتا ہے، سیلاب بغیر کسی اطلاع کے آتے ہیں۔ ایک اچانک سیلاب سب کچھ تباہ کر سکتا ہے۔ان جیسے کسانوں کےلیے موسمیاتی تبدیلی اب کوئی تصوراتی بات نہیں رہی۔ یہ دریاؤں کی بدلتی ہوئی صورتحال خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں، کم ہوتی ہوئی سردیوں اور پانی کے بہاؤ کی غیر یقینی صورتحال میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ گلگت بلتستان سے چترال اور آزاد کشمیر سے سوات تک پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کی وجہ سے تیز رفتاری سے پگھل رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے خاص طور پر سندھ طاس کے نظام میں موسم گرما کے سیلابوں کی تعداد اور شدت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔سابق کنزرویٹر آف فارسٹس گلزار رحمان کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان میں پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پہاڑی ندی نالے اب سردیوں میں بھی بہتے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کالام اور چترال جیسی وادیوں میں درجہ حرارت جو کبھی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رہتا تھا، اب 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے منفی نتائج بڑھتے ہوئے دریاؤں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز غیر مستحکم گلیشیئل جھیلیں بھی بنا رہے ہیں جو بغیر کسی وارننگ کے پھٹ سکتی ہیں اور زیریں علاقوں میں تباہ کن سیلاب لاسکتی ہیں۔ زراعت پاکستان کے بیشتر حصوں میں گھریلوں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور پانی کے بہاؤ میں کوئی بھی خلل خواہ وہ زیادتی ہو یا کمی، نقصانات کا ایک سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو پانی کے خلل سے گندم اور چاول جیسی اہم فصلوں کا 40 فیصد حصہ متاثر ہو سکتا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کےلیے غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔موسمیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ خطے میں پانی کا انتظام خاص طور پر سندھ طاس معاہدے سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات بھی ہیں۔ 1960 میں ورلڈ بینک کے ضامن ہونے کے ساتھ دستخط کیا گیا یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کی تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان چار جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔ پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں میں پانی کی سطح کے بارے میں ڈیٹا کا اشتراک نہ کرنا اور بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں پاکستان کے زیریں اضلاع میں سیلاب کی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیے جانے کے بعد 2025 کے اواخر میں دریائے چناب میں غیر معمولی طور پر کم بہاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوتوا مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے دوران گزشتہ سال دریائے چناب میں پانی کی سطح معمول سے بہت نیچے گر گئی تھی۔ اس طرح کے اتار چڑھاؤ پاکستان میں زراعت، ماہی گیری، پھلوں کے باغات اور لائیوسٹاک کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ سیٹلائٹ کے مشاہدات نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد بالائی علاقوں میں پانی کو روکنے کی نشاندہی کی ہے جس سے شفافیت اور ہم آہنگی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔دریائے سندھ کا نظام تقریباً 30 کروڑ لوگوں کی کفالت کرتا ہے اور تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم جیسے بڑے ڈیموں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام دریاؤں کے مستقل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی یا جیو پولیٹیکل تناؤ سے پیدا ہونے والا کوئی بھی خلل پاکستان میں آبپاشی کے نیٹ ورکس، توانائی کی پیداوار اور روزمرہ کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر اعجاز خان کہتے ہیں کہ پانی یہاں صرف ایک ذریعہ نہیں ہے۔ یہ غذائی تحفظ، توانائی اور غذائی استحکام کی بنیاد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا موسم گرما میں سیلاب کے خطرات کو بڑھاتا ہے جبکہ غیر یقینی بہاؤ فصلوں کی کاشت کے اہم ادوار کے دوران قلت کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو خشک سالی آئے گی، زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور آبی آلودگی کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان میں فاقہ کشی اور بھوک کا باعث بن سکتا ہے۔ صلاح الدین جیسے کسانوں کےلیے یہ یکے بعد دیگرے خطرات گہرے پریشان کن اور غیر یقینی کا باعث ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اب نہیں جانتے کہ کیا توقع رکھنی ہے۔سیلاب ہو یا خشک سالی، دونوں صورتوں میں ہم سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا شکار بنتے ہیں۔ تجزیہ کار اور قانونی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مشترکہ آبی وسائل کے انتظام اور پاکستان میں پانی اور خوراک کے بحران کو روکنے کےلیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سندھ طاس جیسے معاہدوں کو شفافیت، ڈیٹا کی تقسیم اور مذاکرات کے ذریعے برقرار رکھا جانا چاہیے اور اسے مضبوط بنانا چاہیے۔ سندھ طاس معاہدے کے ضامن ہونے کے ناطے ورلڈ بینک پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو اپنے غیر قانونی فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کرے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ سال اپریل میں تاریخی سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے ورلڈ بینک کی ضمانت اور بین الاقوامی کنونشنز کے خلاف ورزی کی۔ ان خلاف ورزیوں کا بوجھ صلاح الدین جیسے لوگوں پر پڑتا رہے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دریا کے سب سے قریب رہتے ہیں اور اس کے بدلتے ہوئے رخ کے سامنے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ صلاح الدین خان کہتے ہیں کہ سندھ کا پانی ہمیں زندگی دیتا ہے لیکن اب یہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سیلاب کا خوف بھی لاتا ہے۔

پچھلی پوسٹ

اب تک 8ہزار753پاکستانی عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ گئے

اگلی پوسٹ

مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ بے نقاب

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ بے نقاب

مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ بے نقاب

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper