• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

بھارت ،پاکستان کے کھیوڑہ نمک کی غلط برانڈنگ کررہا ہے، رپورٹ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 19, 2026
in پاکستان
0
بھارت ،پاکستان کے کھیوڑہ نمک کی غلط برانڈنگ کررہا ہے، رپورٹ
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):بھارتی تاجر پاکستان کے معروف کھیوڑہ گلابی نمک (ہمالین پنک سالٹ) کو تھائی لینڈ اور عالمی منڈیوں میں منظم انداز میں غلط برانڈنگ کے ساتھ فروخت کر رہے ہیں، حالانکہ یہ پاکستان کے آئی پی او میں پی ایم ڈی سی کے ذریعے جغرافیائی شناخت کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کھیوڑہ کی کان دنیا کے دوسرے بڑے نمک کے ذخائر میں شمار ہوتی ہے جہاں220 ملین ٹن کے ذخائرپائے جاتے ہیں اور سالانہ تقریباً 385,000 ٹن اعلیٰ معیار کا گلابی نمک پیدا کرتی ہے جو 80 سے زائد معدنی اجزاءسے بھرپور ہے۔دوسروں کی اشیاءکو اپنا بنا کر پیش کرنا بھارت کی پرانی عادت ہے اوراسی عادت کے تحت اس نے پاکستان کے کھیوڑہ پنک سالٹ (ہمالین پنک سالٹ) کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہوئے اسے تیسرے ممالک کے ذریعے درآمد کر کے ”انڈین ہمالین سالٹ“کے نام سے پیش کیا۔ یہ طرزِ عمل باسمتی چاول کی غلط نمائندگی جیسے معاملات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ روش صرف چاول یا نمک تک محدود نہیں بلکہ گانوں، فلموں اور ثقافتی عناصر کی نقل تک پھیل چکی ہے۔بھارتی درآمد کنندگان پاکستان سے خام نمک کو متحدہ عرب امارات کے راستے کم قیمت (60سے80 ڈالر فی ٹن) پر حاصل کرتے ہیں، پھر اسے تجارتی نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان زیادہ تر خام نمک برآمد کرتا ہے اور عالمی منڈی سے سالانہ تقریباً 120 ملین ڈالر کماتا ہے، جبکہ اس مارکیٹ کی مالیت 2024 میں 238 ملین ڈالر ہے اور 2033 تک 327 ملین ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے ۔ اس نوعیت کی غلط نمائندگی خودمختار برانڈنگ کے حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ تھائی لینڈ میں غیر ملکی جغرافیائی شناخت صرف 2003 کے جی آئی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے بعد محفوظ ہوتے ہیں جبکہ پاکستان نے ابھی تک درخواست جمع نہیں کرائی۔ اسی نوعیت کے طریقے مشرق وسطیٰ میں بھی اختیارکئے گئے ہیں جہاں متحدہ عرب امارات میں بھارتی تاجر کھیوڑہ نمک کو پریمیم پیکجنگ کے ساتھ ”انڈین ہمالین پنک سالٹ“کے لیبل کے تحت یورپ، امریکا اور مشرق بعید کو دوبارہ برآمد کرتے رہے ہیں۔یہ معاملہ پاکستان کی باسمتی چاول کے دفاع کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔ بھارت کی 2018 میں یورپی یونین میں خصوصی جی آئی کی کوشش کو پاکستان نے سخت سفارتی اور قانونی جنگ کے بعد ناکام بنایا۔ پاکستان نے 2022 میں اپنا جی آئی حاصل کیا اور 2025 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں اہم قانونی کامیابیاں حاصل کیں جس کے نتیجے میں یورپی یونین، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں مشترکہ ورثے کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔ بھارت مسلسل غلط دعوے کرنے والے ملک کے طور پر دوسروں کی مصنوعات، ڈیزائنز اور ایجادات کو معمولی تبدیلیوں، نئے لیبل یا جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس طرز عمل نے عالمی سطح پر اصل ماخذ اور برانڈنگ کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھی بھارت اکثر ایسے نظاموں کو مقامی قرار دیتا ہے جو درحقیقت غیر ملکی بنیادی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر تیجس LCA لڑاکا طیارہ امریکی ساختہ GE F404 انجن سے چلتا ہے جو مکمل طور پر درآمد شدہ ہے اور جس کی مقامی تیاری موجود نہیں مگر اسے ”میک اِن انڈیا“ کے تحت مقامی قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ثقافتی میدان میں بھی بالی ووڈ پر متعدد بار پاکستانی گانوں اور موسیقی کی نقل اتارنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ خوراک، ٹیکسٹائل، جواہرات اور دیگر شعبوں میں بھی خاص طور پر چینی مصنوعات کے ساتھ یہی رجحان دیکھا گیا ہے ۔ بھارتی درآمد کنندگان اکثر چینی طبی آلات اور وینٹی لیٹرز کو صرف لیبلنگ یا ری پیکجنگ کے ذریعے بھارتی ساختہ کے نام سے فروخت کرتے ہیں جو اس طرح کی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔فروری 2026 کی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں گالگوٹیا یونیورسٹی کو اپنا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا گیا جب ایک پروفیسر نے چینی Unitree Go2 روبوٹک ڈاگ کو مقامی ایجاد”Orion“ قرار دیا۔ اسی طرح ایک فٹبال ڈرون کو بھی جنوبی کورین ماڈلز سے مماثلت کے باوجوبھارتی ساختہ قرار دے کر پیش کیا گیا۔ فیشن کے میدان میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں بھارتی ڈیزائنرز جیسے نکھل تھامپی پر امریکی ڈیزائنر برینڈن میکس ویل کے رن وے ڈیزائنز کی نقل کے الزامات لگے جبکہ دیگر نے لبنانی ڈیزائنر زبیر مراد اور اطالوی برانڈ Versace کے مجموعوں سے مماثلت رکھنے والے ڈیزائن پیش کیے۔اس طرح کا مسلسل طرز عمل اصلیت کو کمزور کرتا ہے، صارفین کے جذبات کا فائدہ اٹھاتا ہے اور برانڈنگ و جدت میں اصل پن پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ غیر ملکی مصنوعات جیسے ہمالین پنک سالٹ کو”انڈین“قرار دینا WTO TRIPS معاہدے کے آرٹیکلز 22اور24کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے، جو جغرافیائی شناخت کے غلط استعمال اور اصل مقام کے بارے میں گمراہ کن دعووں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کھیوڑہ نمک کی عالمی شناخت کے تحفظ اور پاکستان کی معدنی دولت کے مو ثر استعمال کے لیے فوری طور پر عالمی سطح پر رجسٹریشن، ویلیو ایڈیشن، جدید برانڈنگ اور مارکیٹنگ اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ کھیوڑہ کی اصل شناخت محفوظ رہے اور پاکستان اپنی قدرتی دولت سے مکمل معاشی فائدہ حاصل کر سکے۔

پچھلی پوسٹ

وزیراعظم اور کویت کے ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ، باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

اگلی پوسٹ

فرانسیسی مصنف اور فلم ڈائریکٹر کی کتاب میں بھارتی بربریت بے نقاب

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
فرانسیسی مصنف اور فلم ڈائریکٹر کی کتاب میں بھارتی بربریت بے نقاب

فرانسیسی مصنف اور فلم ڈائریکٹر کی کتاب میں بھارتی بربریت بے نقاب

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper