کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی) بلوچستان کے محکمہ صحت سے وابستہ روشان عرف زاکر کافی عرصے سے بی ایل اے کے لئے کام کر رہا تھا اس کی مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے خفیہ ایجنسیاں اس کے پیچھے پڑ گئیں اس پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ جلد ہی یہ بات سامنے آئی کہ وہ محکمہ صحت میں اپنی پوزیشن کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت، لاجسٹک سپورٹ اور حساس مقامات کی ریکی کے لئے بطور کوور استعمال کر رہا تھا۔ اسی دوران پتا چلا کہ یہ لوگ کوئٹہ میں دہشتگردی کا بڑا واقعہ کرنے جا رہے ہیں۔ اور خفیہ اداروں نے عین اُس وقت چھاپہ مارا جب یہ گروہ تخریب کاری کے ایک بڑے منصوبے کو حتمی شکل دے
رہے تھا۔اس گروہ کا سرغنہ روشان عرف زاکر نکلا۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، آئی ای ڈی (IEDs) بنانے کا سامان اور شہر کے اہم سرکاری و سکیورٹی دفاتر کے نقشے برآمد ہوئے ہیں۔ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے صوبے میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔حکام کے مطابق روشان عرف زاکر نے دورانِ تفتیش محکمہ صحت اور دیگر سرکاری اداروں میں موجود اپنے مزید سہولت کاروں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں، جس کے بعد صوبے بھر میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ "سرکاری تنخواہ لے کر ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں” کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔کوئٹہ پنجگورسے نمائندہ خصوصی کے مطابقپنجگور سے 7 رکنی ایسا گروہ خفیہ ایجنسیوں نے پکڑا ہے جس کے پاس سے تہران اور کوئٹہ کے حساس مقامات کے نقشے ، جدید ترین اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ گروہ پاک-ایران سرحد کے قریب ایک بڑی دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کو براہِ راست افغانستان کے دارالحکومت کابل سے ہدایات مل رہی تھیں۔ نیٹ ورک کا مقصد سرحد کے دونوں اطراف بدامنی پھیلا کر برادر اسلامی ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنا تھا۔حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق، گروہ نے اپنے ناپاک عزائم کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے رکھی تھیں۔ منصوبے کے تحت گروہ کے 3 ارکان نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے ایران (تہران) جانا تھا، جہاں انہیں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔باقی 4 ارکان کو کوئٹہ روانہ ہونا تھا، جہاں وہ صوبائی دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارات اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی تیاری مکمل کر چکے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کے فرانزک تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک کابل میں بیٹھے بی ایل اے کے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھا۔ برآمد شدہ نقشوں میں تہران کے اہم سفارتی زونز اور کوئٹہ کے حساس انتظامی دفاتر کی نشاندہی کی گئی تھی۔زرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران سرحدی ضلع پنجگور سے گرفتار اس گروہ کا تعلق بی ایل اے کی مجید بریگیڈ سے ہے اور اس معاملے میں افغانستان اور انڈیا پوری طرح ملوث ہیں ۔
