اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہسپتال پر حملے کی خبروں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے ”ایکس“ پوسٹ میں جس “امید ہسپتال“ کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ درحقیقت گذشتہ رات نشانہ بنائے جانے والے ملٹری و
دہشت گردی کے اسلحہ و سازوسامان ذخیرہ کرنے کے مقام کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ فیکٹ چیکر وزارت اطلاعات و نشریات نے منگل کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اصل ہسپتال ملٹری/دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے مقابلے میں کثیر المنزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ فیکٹ چیکر کی جانب سے اس کی تصاویر بھی ”ایکس“ پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ہیں ،فرق اور جھوٹ واضح ہے۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ مبینہ منشیات کی بحالی کے مرکز کو کسی فوجی کیمپ میں مہلک گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی جگہ
کے ساتھ کیوں قائم کیا گیا؟ یہ سوال بھی تاحال جواب طلب ہے۔ فیکٹ چیکر، وزارت اطلاعات و نشریات کی پوسٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ افغان آفیشل ہینڈل نے یہ پوسٹ/وڈیو کیوں ڈیلیٹ کی؟ وہ پہلی سرکاری پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی ”منشیات بحالی مرکز“ کو نشانہ بنایا گیا ہے، کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کیا یہ مصنوعی طور پر تیار کردہ اے آئی کلپ تھا جو متعدد فیکٹ چیکس کے سامنے برقرار نہ رہ سکا؟ افغان طالبان اپنی من گھڑت پوسٹ سے پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
