پشاور ( نمائندہ خصوصی)خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں دہـــشتــگرد گروہوں کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اتمانزئی کے علاقے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹی ٹی پی کے مسلح کارندے دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے گل بــہادر گروپ کے دو افراد کو قتــــل کر دیا ہے۔ویڈیو میں موجود ٹی ٹی پی کمانڈر کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد
مقامی لوگوں سے بھتہ خوری میں ملوث تھے اور اس حوالے سے قبائلی جرگے کے فیصلے کو بھی نظر انداز کر رہے تھے۔ ٹی ٹی پی کے مطابق انہیں کئی بار تنبیہ کی گئی، لیکن جب انہوں نے اپنا عمل جاری رکھا تو انہیں "سزا” دی گئی۔یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ قبائلی علاقوں میں سرگرم مختلف شدت پسند گروہ اب اختیار، پیسے اور اثر و رسوخ کی جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف ریاست کے خلاف کارروائیوں کی بات کی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف انہی گروہوں کے درمیان بھتہ خوری اور طاقت کی تقسیم پر خونریز جھڑپیں سامنے آ رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس حقیقت کو مزید بے نقاب کرتے ہیں کہ یہ گروہ کسی نظریے سے زیادہ مالی مفادات اور مقامی کنٹرول کی جنگ لڑ رہے ہیں، جس کی اصل قیمت عام قبائلی عوام کو چکانی پڑتی ہے۔
