اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)پاکستان نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی صورتحال سے متعلق اپنی ساتویں قومی رپورٹ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہےجس میں ماحولیاتی نظام کے تحفظ، جنگلات کے فروغ اور عالمی حیاتیاتی تنوع اہداف پر عملدرآمد میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ بات وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے میڈیا ترجمان اور موسمیاتی پالیسی و حیاتیاتی تنوع کے ماہر محمد سلیم شیخ نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے قومی حیاتیاتی تنوع پالیسیوں کو کنمنگ۔مونٹریال گلوبل بائیوڈائیورسٹی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کی جامع تفصیل پیش کی گئی ہےجس میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اس کے برعکس رجحان پیدا کرنے کے لیے 23 عالمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی رپورٹ عالمی سطح پر پیش رفت کے جائزے کے لیے اہم معلومات فراہم کرے گی۔ اس فریم ورک کے تحت پیش رفت کا
جائزہ کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کی کانفرنس آف پارٹیز کے 17ویں اجلاس (COP17) کے دوران لیا جائے گاجو 19 سے 30 اکتوبر کو آرمینیا کے شہر یریوان میں منعقد ہوگا۔تقریباً 125 ممالک، جو کنونشن کے 196 رکن ممالک کا تقریباً دو تہائی بنتے ہیں، عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے جائزے سے قبل اپنی ساتویں قومی رپورٹس جمع کرا چکے ہیں۔کنونشن کے آرٹیکل 26 کے تحت رکن ممالک کو ہر چار سے پانچ سال بعد قومی رپورٹس جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، جن میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قومی حکمت عملیوں پر عملدرآمد سے متعلق اقدامات بیان کیے جاتے ہیں۔وزارت کے ترجمان کے مطابق ساتویں رپورٹنگ سائیکل میں کنمنگ۔مونٹریال فریم ورک کے تحت زیادہ منظم مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا گیا ہےجس کے ذریعے قومی رپورٹس کو عالمی اشاریوں سے جوڑا گیا ہے تاکہ شفافیت اور احتساب کو بہتر بنایا جا سکے۔محمد سلیم شیخ کے مطابق رپورٹ میں پاکستان کی کئی اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں محفوظ اور محفوظ شدہ علاقوں کا دائرہ بڑھا کر ملک کے تقریباً 20 فیصد رقبے تک لے جانا شامل ہےجس میں زمینی اور سمندری دونوں ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نےماحولیاتی لحاظ سے اہم علاقوں کو تحفظ کے لیے ترجیح دینے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے اور محفوظ علاقے اب ملک کے تقریباً پانچویں حصے پر مشتمل ہیں، جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں جنگلات کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے تین لاکھ ایکڑ سے زائد جنگلات کی اراضی کی قانونی حد بندی کی گئی ہےجس میں آزاد جموں و کشمیر میں ایک لاکھ 36 ہزار ایکڑ اور سندھ میں تقریباً دو لاکھ پانچ ہزار ایکڑ سرکاری جنگلات شامل ہیں۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ جنگلات کی حد بندی سے تجاوزات اور غیر منصوبہ بند زمین کے استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی اور جنگلات کے تحفظ کے لیے قانونی وضاحت فراہم ہوگی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں معمولی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت یہ ملک کے مجموعی رقبے کا تقریباً 5.4 فیصد ہے، جبکہ جہاں منصوبہ بندی اور نگرانی کے اقدامات کیے گئے وہاں جنگلات کی کٹائی میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نےحیاتیاتی تنوع کو مدنظر رکھنے والی مکانی منصوبہ بندی میں بھی پیش رفت کی ہے، جس کے تحت زمین کے استعمال کی حکمت عملی، زوننگ قوانین اور ضلعی سطح کے منصوبہ بندی فریم ورک تیار کیے گئے ہیں۔بلوچستان کے تقریباً 60 فیصد اضلاع میں جنگلی حیات کے لیے راہداریاں نقشہ بندی کی جا چکی ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں شراکتی زمین کے استعمال کی نقشہ بندی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو ماحول دوست بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کو مکانی منصوبہ بندی میں شامل کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ غیر منصوبہ بند زمین کے استعمال میں تبدیلی حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دریاؤں اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی بہاؤ کے تقاضوں کو بھی زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، خصوصاً دریائے سندھ کے طاس اور انڈس ڈیلٹا جیسے ساحلی علاقوں میں۔پالیسی سطح پر پنجاب اسپیشل اسٹریٹیجی 2021 اور پنجاب اسپیشل پلاننگ اتھارٹی ایکٹ 2025 جیسے اقدامات کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی جانچ اور مکانی ضابطہ کاری کو بھی ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔وفاقی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے پی سی ون کے عمل میں بھی ماحولیاتی اسکریننگ شامل کر دی گئی ہے، جس کے لیے انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم جیسے ڈیجیٹل نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح پاک ای پی اے جیومیٹک سینٹر اور صوبائی منصوبہ بندی کے ادارے GISجی آئی ایس پر مبنی ماحولیاتی مانیٹرنگ ٹولز کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں حیاتیاتی تنوع کے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔وزارت کے مطابق قومی رپورٹ کی تیاری کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں،تحقیقی اداروں، جامعات، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت کی۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ اس عمل سے مختلف اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا اور وفاقی و صوبائی سطح پر حیاتیاتی تنوع سے متعلق ڈیٹا کو ہم آہنگ کرنے میں مدد ملی۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ کی تیاری نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی نگرانی، عملدرآمد اور مالی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کی بنیاد بھی فراہم کی ہے۔تاہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پاکستان کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں کئی ساختی چیلنجز کا سامنا ہے۔محمد سلیم شیخ کے مطابق مختلف صوبوں اور شعبوں میں مکانی منصوبہ بندی کے نفاذ میں عدم توازن، زمین کی ملکیت کے تنازعات اور تجاوزات جیسے مسائل حیاتیاتی تنوع کے مؤثر تحفظ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے عالمی ہدف 2030 تک نقصان روکنے کے مقصد کے حصول کے لیے مضبوط نفاذی نظام، بہتر ادارہ جاتی رابطہ اور اسٹریٹجک ماحولیاتی جائزے کے وسیع استعمال کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ رپورٹ جمع کرانا عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی کوششوں میں ملک کے مسلسل کردار اور ماحولیاتی نظام و انواع کے تحفظ کے عالمی جائزے میں اس کے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

