لاہور ( نمائندہ خصوصی):وزیراعظم کی ہدایت پر معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات پیش کر دی گئیں،کفایت شعاری اور بچت کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان ( آج ) پیر کو کیا جائے گا،کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعتی اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہوجبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ،قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے،جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی،سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری
اختیار کرنا ہوگی۔اتوار کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بین الاقوامی سطح پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت پیشگی اقدامات کر رہی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لی تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے جن سے عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، وفاقی و صوبائی سطح پر تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنا ہوگی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مشکل وقت میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیئے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کے مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو ضروری ایڈجسٹمنٹس برداشت کرنے میں خود مثال قائم کرنی چاہیئے۔اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ملکی معیشت میں استحکام کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور بچت کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان ( آج ) پیر کو کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیشگی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں دانشمندانہ انتظام اور ایندھن کے محتاط استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ آئی ٹی سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے طلب اور رسد کی مستقل نگرانی کے نظام کی سہولت فراہم کرے گی تاکہ متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی حالیہ عالمی کشیدگی کے پیش نظر صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

