کراچی ( نمائندہ خصوصی)مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے پاک،افغان سرحدی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے اپنی سرحدوں اور معیشت کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں افغانستان کی جنگوں کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان نے اٹھایا اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا، اب اگر ہماری افواج دراندازی کے جڑ سے خاتمے کیلئے کوششیں کررہی تو ایسے میں تما م قوم پاک افواج کے اس اقدام کی بھر پور حمایت اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ایران اور اسرائیل جنگ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایران اسرائیل جنگ مقامی و
علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی جغرافیائی سیاست کا حصہ ہے۔ ہتھیار بنانے والی طاقتیں اربوں ڈالر کماتی ہیں اور اس خطے کے عوام اپنے شہر، گھر اور مستقبل کھو دیتے ہیں، بدقسمتی سے مسلم دنیا اس معاملے میں متحد موقف پیش کرنے میں ناکام رہی، فلسطین، شام، یمن اور اب ایران و اسرائیل جنگ! ہر جگہ مسلمان ممالک تقسیم اور کمزور نظر آتے ہیں۔آفاق احمد نے کہا کہ پاکستان کوئی پناہ گاہ یا تجربہ گاہ نہیں جہاں دنیا اپنی ناکام جنگیں آزما کر چلی جائے اور قیمت پاکستانی عوام ادا کریں۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان پہلے ہے یا دوسروں کے مفادات۔ آفاق احمد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، حکومت اور قومی سلامتی اداروں کو ایسے کسی عسکری بلاک یا جنگی صف بندی کا حصہ نہ بنیں جس کا ہماری قومی سلامتی سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، قوموں کی عزت جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ واضح فیصلوں سے بنتی ہے، پاکستان کو اب سیدھی بات اور سیدھا فیصلہ کرنا ہوگا۔
