پشاور۔ ( نمائندہ خصوصی):بین الاقوامی معاہدوں اور دوطرفہ تعلقات کی پروا کئے بغیر افغان طالبان رجیم نے 29 فروری 2020 کو قطر میں ہونے والے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں اور عہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان نے یہ عہد کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد گروہ یا فرد کی جانب سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کےلیے استعمال نہیں کی جائے گی۔ تاہم سیکورٹی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے اور عسکریت پسند گروپوں کو افغانستان کے اندر کارروائیاں کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔افغان طالبان نے معاہدے کے تحت وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم سمیت اپنے مفرور ارکان کو سرحد پار دہشت گردی کےلیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ماہرین کے مطابق ایسی ناپاک سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس افغان طالبان کی ناک کے نیچے افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے اور انہوں نے پاکستان کے خلاف حملوں میں تیزی لائی ہے۔ سابق سفیر منظور الحق نے دوحہ معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا
کہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کے جواب میں اپنے عوام کی حفاظت کےلیے دفاعی اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خود مختار ملک اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کے عوام اور سیکورٹی فورسز کو دہشت گردوں اور خودکش حملہ آوروں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے عجلت میں انخلا اور اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ عسکریت پسند اور دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم اور مضبوط کرنے کی جگہ ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات اور خودکش حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی افغان سرزمین سے منصوبہ بندی ہوئی جس سے پاکستان کےلیے اہم سیکورٹی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات سمیت سفارتی روابط کے باوجود افغانستان نے ایسی کوئی تحریری یقین دہانی فراہم نہیں کی جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہو کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار جارحیت کے جواب میں مسلسل دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے پاس اپنے دفاع میں ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران پاکستانی سیکورٹی فورسز نے افغان طالبان کے 297 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ پاکستان نے ان کے 89 پوسٹس کو تباہ اور 18 کو قبضے میں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات 11 بجے تک 450 سے زائد افغان کارندے زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق فضائی دفاعی کارروائیوں کے ذریعے افغانستان بھر میں 29 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے ساتھ تعاون یا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ الحاق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔گزشتہ روز انہوں نے واضح طور پر کہا کہ افغان طالبان کے عناصر نے خیبر پختونخوا میں
پاک افغان سرحد کے ساتھ 53 مقامات پر بلا اشتعال حملے اور چھاپے مارے، جنہیں پاکستانی فورسز نے پسپا کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار فوجی اہداف کا انتخاب انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کےلیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نشانہ بنائے گئے مقامات میں کور، بریگیڈ اور بٹالین ہیڈ کوارٹرز، سیکٹر ہیڈ کوارٹرز، گولہ بارود کے ڈپو، لاجسٹک بیسز اور عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کےلیے استعمال ہونے والی شیلٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے افغان میڈیا میں زیر گردش سویلین ہلاکتوں کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 12 سپاہی شہید، 27 زخمی ہوئے اور ایک لاپتہ ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ دوحہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی افغان طالبان کی بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کے حوالے سے دیرینہ خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو برداشت کرنے والی پالیسیاں علاقائی امن اور استحکام کےلیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ڈھانچے کو ختم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ 47 سال سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کے باوجود افغان طالبان رجیم دشمن ممالک کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑے پراکسی کا کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طویل عرصے میں ہسپتال، اسکول اور ٹرانسپورٹ تک افغان مہاجرین کے ساتھ مشترک کیے گئے لیکن افغان طالبان نے اسے نظر انداز کیا اور بھارتی پراکسی کے طور پر کام کیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پائیدار علاقائی استحکام کا انحصار دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر ہے۔ پاکستان کے عوام اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور مادر وطن کے دفاع کےلیے ہر قسم کی قربانی کےلیے تیار ہیں۔
