اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وفد نے منگل کو یہاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملاقات کی جس میں جامعہ اور عدلیہ کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق وفد کی قیادت جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کر رہے تھے۔ وفد میں وائس پریذیڈنٹ (ریسرچ اینڈ انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید اور ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم بھی شامل تھے۔ملاقات خوشگوار اور مستقبل کے حوالے سے مثبت ماحول میں منعقد
ہوئی جس میں اسلامی فقہ، عدالتی تربیت اور تحقیقی تعاون کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم کی قیادت میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ساتھ مل کر ججوں کے لیے آن لائن تربیتی پروگرامز کا انعقاد کرے گی۔اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی سے آراستہ پلیٹ فارمز کے ذریعے پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے یونیورسٹی کی تحقیقی استعداد اور ڈیجیٹل رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے ملک بھر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی تعلیم کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے شواہد پر مبنی عدالتی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اصلاحات اور فقہی ارتقاء میں جامعات کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن کی حیثیت سے جامعہ کی انتظامیہ کو تدریس اور تحقیق میں اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے عدلیہ کی جانب سے تعمیری تعاون کو سراہتے ہوئے عدالتی اداروں کے ساتھ مل کر علمی مکالمے، خصوصی تربیت اور تحقیق پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے خیرسگالی کے طور پر یادگاری تحائف کا تبادلہ کیا گیا جو باہمی تعاون کو مستحکم بنانے کے عزم کی علامت ہے۔