اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہےسرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے،پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنی سرحدوں کے پار سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے عوام کے دفاع کے بنیادی حق پر مبنی ہیں اور یہ ان متعدد انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔آٹھ فروری 2026ء کے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ “جب دہشت گرد گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنیٰ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج پوری دنیا میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں ایسی صورتحال پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں جہاں طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے
جیسی یا اس سے بھی بدتر حالت پیدا کر دی ہے۔اتوار کو ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ یہ گہری تشویش کا باعث ہے کہ کابل میں موجود ڈی فیکٹو حکام، جن کی حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی، نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو سرگرم رہنے کی اجازت دی ہے، جو اقوام متحدہ کی عدم شناخت کے باوجود دوحا اکارڈ کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے، جس میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہےرکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ آئی ایس آئی ایل-کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ المعروف ترکستان اسلامک پارٹی (ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی)، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ تشخیص واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ واضح انتباہات اور بارہا رابطوں کے باوجود افغان حکام نے ان عناصر کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق اقدام نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں تک محدود رکھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہیں گے۔صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن انکار، دوغلے پن یا دہشت گردی کے خلاف عدم اقدام کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا۔ پاکستانی عوام کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
