ڈھاکہ۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیر اعظم طارق رحمان سے حلف برداری کی تقریب کے بعد ملاقات کی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور وزیر اعظم طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ تاریخ اور ہم آہنگ معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مستقبل بین شراکت داری کا خواہاں ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں پُرامن جمہوری انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان نے پاکستان کی خیرسگالی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نوجوان آبادی رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور آبادی کا یہ تناسب ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے، مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل معیشت
میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے دوطرفہ تجارت میں اضافے، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کے فروغ اور سپلائی چین کے انضمام پر زور دیا تاکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے صنعتی صلاحیتوں، ایس ایم ای سیکٹر اور برآمدی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک عالمی ویلیو چینز میں اہم کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے بنگلہ دیش–پاکستان نالج کوریڈور کے آغاز بارے بنگلہ دیشی وزیراعظم کو آگاہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جلد بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے تاکہ جامعات کے درمیان پروگرامز اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو حتمی شکل دی جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ تعلیمی اور تحقیقی روابط پائیدار تعاون کی بنیاد بنیں گے۔مشترکہ ترقیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کلیدی قومی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور گورننس کے شعبوں میں بہتری لانے پر مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ثقافتی اور فکری روابط کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے اقبال اکیڈمی کو ڈھاکہ میں دوبارہ فعال بنانے اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ آئندہ سال ڈھاکہ میں مشترکہ طور پر منانے کی تجویز پیش کی تاکہ ان کے پیغامِ خودی، اتحاد اور روحانی جمہوریت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ثقافتی سفارتکاری اور عوامی روابط معاشی تعاون کو تقویت دیں گے۔بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کے اپنے سابقہ دورے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اپنی والدہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ اپنی ملاقاتوں کو نہایت خوشگوار اور یادگار قرار دیا اور وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے تعاون کے عملی فریم ورک کو تیز کرنے اور خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور جنوبی ایشیا کو جیوپولیٹکس کی بجائے جیو اکنامکس کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے کم ترین مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہتر رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی ویلیو چینز کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش خطے کے تقریباً ایک چوتھائی انسانوں کے لئےخوشحالی اور مشترکہ ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
