اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک عوامی مذاکرے میں ماہرین نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے یورپی پالیسی کو علاقائی استحکام، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کے ساتھ سٹریٹجک مفادات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ مذاکرے کا عنوان ’’یورپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظرِ ثانی: مفادات اور اقدار کا توازن‘‘ تھا۔تقریب سے سینٹر کی
ڈائریکٹر ڈاکٹر آمنہ خان، معزز مہمان مقرر ڈاکٹر فلاویس کابا ماریا اور چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ یورپی یونین کی پالیسی تین اہم ترجیحات کے گرد گھومتی ہے جن میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کا فروغ، غزہ کی جنگ کے تناظر میں اسرائیل-فلسطین تنازعے کی بدلتی حرکیات اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط کا انتظام شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ نے یورپ کی رائے عامہ اور پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور انسانی بحران کے تناظر میں پالیسی پر نظرِ ثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ڈاکٹر فلاویس کابا ماریا نے کہا کہ یورپی یونین کی مشرق وسطیٰ پالیسی ایک محتاط اور قانونی بنیادوں پر استوار نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے تاہم اندرونی اختلافات اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اس کے کردار کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین دو ریاستی حل کی حمایت، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اعادہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر یورپی ریاستیں 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی فریم ورک کی توثیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔خلیجی خطے کے حوالے سے انہوں نے یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان بڑھتے ہوئے سٹریٹجک تعاون کو اہم قرار دیا اور کہا کہ تجارت، ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کے شعبوں میں شراکت داری یورپ کی توانائی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ایران کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلقات ایک نچلی سطح پر ہیں جس سے سفارتی امکانات محدود
ہوئے ہیں اور جوہری معاہدے کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اندرونی اختلافات اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی مسابقت بھی اس کے اثر و رسوخ کو متاثر کر رہی ہے۔شام کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سکیورٹی اور ہجرت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود مگر بامقصد شمولیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔سفیر خالد محمود نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں یورپ کا کردار اس کی اقدار اور سٹریٹجک مفادات کے درمیان توازن کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور خطے میں سفارتی روابط کے ذریعے استحکام کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی جبکہ مذاکرہ سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
