اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے انضمام، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز، ٹیلی میڈیسن اور ڈیٹا پر مبنی تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل ضیاءالدین یونیورسٹی محض ایک اور تعلیمی ادارہ بننے کے بجائے مستقبل سے ہم آہنگ، ٹیکنالوجی پر مبنی مرکز امتیاز کے طور پر ترقی کرے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے جمعہ کو یہاں فیڈرل ضیاء الدین یونیورسٹی اسلام آباد کی گورننگ باڈی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی اور ادارے کو معیاری تعلیم، تحقیق اور جدت بالخصوص صحت سائنس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر تعمیر کرنے کےلئے ایک واضح سمت کا خاکہ پیش کیا۔صدر مملکت نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی محض ایک اور تعلیمی ادارہ بننے کے بجائے مستقبل سے ہم آہنگ، ٹیکنالوجی پر مبنی مرکز امتیاز کے طور پر ترقی کرے۔ انہوں نے ہدایت
کی کہ تعلیمی پروگرامز، فیکلٹی کی تقرری اور انفراسٹرکچر کی ترقی اعلیٰ قومی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہونی چاہیے اور وسعت کے ساتھ معیار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ صدر مملکت نے طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے انضمام، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز، ٹیلی میڈیسن اور ڈیٹا پر مبنی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بائیوٹیکنالوجی، پریسڑن میڈیسن اور میڈیکل روبوٹکس جیسے شعبوں میں بین الشعبہ جاتی تحقیق کی بھی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شفاف مالی نظام اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو آغاز ہی سے ادارے کا حصہ بنایا جائے۔صدر مملکت نے گورننگ باڈی کی اس ذمہ داری کو اجاگر کیا کہ وہ آنے والے برسوں میں یونیورسٹی کے وژن اور ساکھ کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عاصم حسین نے اس موقع پر گورننگ باڈی کے اراکین کا تعارف کرایا جس کے بعد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رضا بھٹی نے صدر مملکت کو فیڈرل ضیاء الدین یونیورسٹی ایکٹ 2024 کے تحت یونیورسٹی کے قیام اور خزاں 2026ء سے تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ صدر مملکت کو بتایا گیا کہ نئی یونیورسٹی ضیاءالدین یونیورسٹی کی تعلیمی روایت کو آگے بڑھائے گی جس کی بنیاد 1986ء میں سکول آف نرسنگ سے رکھی گئی تھی اور بعد ازاں یہ ایک کثیر الشعبہ ادارے کی صورت اختیار کرگئی جہاں صحت کے علوم، انجینئرنگ، مینجمنٹ، قانون، میڈیا، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعلیمی پروگرامز پیش کئے جاتے ہیں۔اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ ادارہ وفاقی سطح پر اسی مشن کو وسعت دینے کا عزم رکھتا ہے جس میں تحقیق کے معیار، روزگار سے وابستگی اور سماجی ذمہ داری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اجلاس کو گورننگ باڈی کی تشکیل اور ایکٹ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر غلام رضا بھٹی کی وائس چانسلر اور اویس احمد کی رجسٹرار کے طور پر تقرری سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران فیڈرل ضیاء الدین یونیورسٹی کا کیمپس کراچی میں قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ صدر مملکت کو بتایا گیا کہ یہ اقدام قانونی تقاضوں اور متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔
