اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)پاکستان اور انڈونیشیا نے 2027ء تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں بدلنے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انڈونیشیا کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈائون سٹریم انڈسٹری روسن روئیسلانی (Rosan Roeslani) کی سربراہی میں 5 رکنی وفد نے منگل کو یہاں ملاقات کی ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دہائیوں پر مبنی برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرابووو سوبیانتو کا گزشتہ سال پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا۔ وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے 58ویں
اجلاس کے دوران انڈونیشیائی صدر کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے ، ساورن ویلتھ فنڈ کے ماڈل کے حوالے سے انڈونیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔انڈونیشیائی وزیر سرمایہ کاری نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا ۔ انڈونیشیا کے وزیر سرمایہ کاری نے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے انڈونیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے 2027ء تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے)میں بدلنے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی طارق فاطمی ، ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔
