اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نظر بند حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر محض ایک سیاسی تنازعہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے خطرناک ترین ایٹمی فلیش پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عالمی برادری پر زور دیا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر منصفانہ اقدامات پر خاموشی اختیار نہ کرے۔ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک اس وقت ڈیتھ سیل میں قید ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی
حکومت کشمیری قیادت کو خاموش کرنے اور تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں انہیں پھانسی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری کشمیری قوم کو اجتماعی طور پر سزا دینے اور خاموش کرنے کی وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے جس کے علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھنا جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کو سزا دینے کے مترادف ہے۔مشعال حسین ملک نے مزید کہا کہ کشمیر میں امن اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا امن اور آزادی حاصل کرنا کشمیریوں کے لیے جرم بن گیا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ اپنا حق مانگنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی برادری مسلسل خاموش ہے جبکہ کشمیر میں بغیر کسی جوابدہی کے تشدد اور ریاستی جبر کھلے عام کیا جا رہا ہے۔علاقائی استحکام کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے مشعال حسین ملک نے کہا کہ ناانصافی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار کے سائے میں پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
