کراچی(نمائندہ خصوصی) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف ادیب بشیر سدوزئی کے ترکیہ کے سفرنامہ ”روشنی کے تعاقب میں“ کی تقریبِ رونمائی حسینہ معین ہال میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز محقق و نقاد
پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل نے کی جبکہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر مہمانِ خصوصی تھیں۔ تقریب میں شاعر فیروز ناطق خسرو، ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر، ڈاکٹر افتخار ملک ایڈووکیٹ، پروفیسر رضیہ سبحان، منور راجپوت، صدف ارم کبیر اور دیگر ادبی شخصیات نے اظہارِ خیال کیا۔ صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل نے کہا کہ تحریکِ پاکستان اور تحریکِ آزادی کے درمیان
تحریکِ خلافت ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے جس نے ہماری تہذیب، ثقافت اور اجتماعی مزاج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی خلافت نے برصغیر کے ادب اور تاریخ کو متاثر کیا اور یہی قربت اس سفرنامے میں نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق بشیر سدوزئی کا سفرنامہ جزئیات نگاری، مشاہدے اور اسلوب کے اعتبار سے منفرد ہے اور اس میں ایسے پہلو شامل ہیں
جو دیگر سفرناموں میں کم دکھائی دیتے ہیں۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے کہا کہ اردو ادب میں سفرنامہ ایک مضبوط اور قدیم روایت رکھتا ہے۔ سفرنامے قارئین کو وہ معلومات فراہم کرتے ہیں جو عام تاریخ کی کتابوں میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ”روشنی کے تعاقب میں“ پڑھتے ہوئے قاری خود کو ترکیہ کی سیر میں مصروف محسوس کرتا ہے۔ بشیر
سدوزئی نے 15 دن کا سفر کیا اور میں نے ترکیہ کا 20 دن کا سفر کیا مگر "روشنی کے تعاقب میں ” میں پڑھ کر بہت ساری نئی چیزوں کی معلومات ہوئی۔ یہ کتاب تاریخ نویسوں کے لیے بھی اہم ہے اور سیاحوں کے لیے بھی ۔ڈاکٹر افتخار ملک نے کہا کہ یہ سفرنامہ ترکیہ کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور عوامی زندگی پر ایک جامع اور قیمتی تبصرہ ہے۔ کتاب میں ترکیہ عوام کے رہن
سہن، سماجی اقدار، پاکستان اور کراچی کے تذکروں کے ساتھ ساتھ چھ سے سات شہروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب سی ایس ایس کے طلبہ اور محققین کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے اور مصنف کی فنی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ شاعر فیروز ناطق خسرو نے کہا کہ کتاب کا انتساب ”ماں جی“ کے نام ہے اور اس میں 115 عنوانات شامل ہیں جن میں سلطان
احمد کے علاقے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ، استنبول کے کھانے، چائے، عمارتیں، محل اور دیگر دل چسپ مناظر نہایت خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں۔پروفیسر رضیہ سبحان نے کہا کہ بشیر سدوزئی کے سفرنامے آنے والی نسلوں کے لیے علمی اور تہذیبی ورثہ ثابت ہوں گے اور یہ کتاب ترکیہ کی تاریخ و ثقافت کا گہرا مطالعہ ہے۔ منور راجپوت نے کہا کہ ”روشنی کے تعاقب میں“ کا عنوان
علامتی ہے جو تعلیم، شعور، ہنر اور ترقی کی روشنی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے مصنف کی ادبی خدمات اور سابقہ تصانیف کا بھی ذکر کیا۔صاحب کتاب بشیر سدوزئی نے کہاکہ آج کی تقریب میں اتنی معتبر شخصیات کی شرکت میرے لیے حوصلہ افزا ہے، یہ میرا چوتھا سفر نامہ ہے، 1996میں میری پہلی کتاب آئی، جلد ہی برطانیہ اور کینیڈا کا ”خواب نگر کا
مسافر“ کے عنوان نیا سفر نامہ شائع ہو گا۔۔ بند ڈبیا میں شہزادی کا ذکر ہوا ،عثمانیہ کے محل میں جب آپ داخل ہوتے ہیں تو آپ کا پاسپورٹ جمع کرلیتے ہیں، وہ ایک ڈبیا دیتے ہیں جتنے قدم آپ چلیں گے اس میں پوائنٹ لکھے ہوئے ہیں جب آپ وہ بٹن دبائیں گے تو ایک خاتون آپ کو ان مقامات کی تشریح کرے گی جہاں بادشادہ بیٹھتا ،کتاب پڑھتا اور فیصلے کرتا تھا، تو اس ڈبیہ کو
شہزادی کا نام دیا ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ قاری کو وہ تجربہ دیا جائے جو شاید وہ خود نہ کرپائے، مختلف تہذیبوں، رسم و رواج، موسم، ذائقے، لہجے سب ایک کتاب میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے جس کو قاری محسوس کرسکے۔ ماضی کے سفر ناموں میں اپنے وقت کی تاریخ محفوظ کی گئی ہے وہی ادب میں آج بھی زندہ ہیں اور سفر نامہ وہی زندہ رہ سکتا ہے جو تاریخ کو
سانس لیتا ہوا دیکھتا ہے جو لوگوں کے چہرے، خوف، خوشیاں، تضادات سب کو کھول کر رکھتا ہے، نئے مقامات پر جاکر اپنے تاثرات ، یقین اور سوالوں سے ٹکراتے ہیں یوں سفر نامہ انسان کو انسان سے ملواتا ہے یہ سمجھیں خود سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سفرنامے قوموں اور ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، میں نے اپنی کتاب میں یہی کوشش کی ہے ، اب کہاں تک کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ آخر میں مصنف نے تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔




