کراچی( نمائندہ خصوصی)کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان ( کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر ملک بھر میں نئی SUV اور الیکٹرک گاڑیوں کے متعدد ماڈلز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جسے بظاہر آٹو انڈسٹری میں مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عملی طور پر صارفین کو شدید مشکلات اور غیر شفاف رویوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کار ساز کمپنیاں جدید فیچرز، خوبصورت ڈیزائن اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو نمایاں کر رہی ہیں، مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ نئی گاڑیاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ حفاظتی معیارات پر کہاں تک پورا اترتی ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 سے 57 بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے نفاذ کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے۔کوکب اقبال کے مطابق کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان

کی جانب سے کراچی کی مختلف کار مارکیٹس میں کیے گئے تفصیلی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر کار ڈیلرز فوری ڈیلیوری کے نام پر غیر قانونی ’اون منی‘ وصول کر رہے ہیں، جو بعض ماڈلز میں 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق کسی بھی گاڑی کی فروخت سرکاری قیمت سے زائد پر نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی کار ساز کمپنیوں نے بکنگ کے وقت صارفین کو جو ڈیلیوری کی تاریخیں فراہم کیں، بعد ازاں بلاجواز طور پر ان میں توسیع کر دی گئی، جس کے باعث صارفین کو نہ صرف مالی نقصان بلکہ شدید ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔کوکب اقبال نے کہا کہ نئی گاڑیوں کی آمد یقیناً مقابلے کی فضا پیدا کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم پیداوار اور محدود سپلائی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے تاکہ ہر گاڑی پر اضافی رقم وصول کی جا سکے، جبکہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی مانگ ظاہر کر کے صارفین کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان، بالخصوص وزارتِ صنعت و پیداوار، وزارتِ تجارت، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا کہ:•گاڑیوں کی فروخت سے قبل حفاظتی معیارات کی لازمی سرکاری تصدیق کی جائے•’اون منی‘ کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے•گاڑیوں کی قیمتوں اور ڈیلیوری نظام کی شفاف نگرانی کی جائے•صارفین کو بروقت اور تحریری طور پر تصدیق شدہ ڈیلیوری شیڈول فراہم کیا جائے•ناقص گاڑیوں اور پرزہ جات کی صورت میں ریکال قانون پر بلا امتیاز عملدرآمد کیا جائے;کوکب اقبال نے کہا کہ موٹر وہیکل انڈسٹری ڈیولپمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ سے قبل ہی مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم کرنا ناگزیر ہے تاکہ صارفین کو حقیقی معنوں میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ آٹو انڈسٹری میں صارفین کے حقوق، حفاظتی معیارات اور قیمتوں کی شفافیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی استحصال کو برداشت نہیں کیا جائے گا