اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ حج 2026 کے اخراجات میں کسی بھی مد میں بچت ہوئی تو وہ ریلیف براہ راست حجاج کرام کو منتقل کریں گے، طبی بنیادوں پر یا ہارڈ شپ کوٹہ میں کامیاب نہ ہونے والے عازمین حج کو پوری رقم کی واپسی یقینی بنائیں گے، حج کے لئے کسی کا کوٹہ نہیں ہے نہ ہی اراکین پارلیمنٹ کو فری حج کرانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔وہ بدھ کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں سیکرٹری وزارت مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے سال 2025ء کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے حج و عمرہ کے شعبے میں ریکارڈ ساز اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حج 2025 کے بہترین انتظامات پر سعودی حکومت نے پاکستان کو ’’ایکسیلنس ایوارڈ‘‘ سے نوازا ہے جو کہ قومی سطح پر ایک بڑا اعزاز ہے۔ حجاج کی سہولت کے لیے حج 2025 کے دوران مجموعی طور پر 3.5 ارب روپے ری فنڈ کیے گئے جس
سے فی حاجی 12 ہزار سے 1 لاکھ 10 ہزار روپے تک کی بچت ہوئی۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حج 2026 کے لیے 1 لاکھ 79 ہزار عازمین کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ ’پاک حج ایپ‘ اور ’روڈ ٹو مکہ‘ منصوبے کی کراچی تک توسیع سے عازمین کی مشکلات میں واضح کمی آئی ہے۔عمرہ اور زیارات کے لیے بھی نئے ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو نجی آپریٹرز کے ہاتھوں استحصال سے بچایا جا سکے اور پورے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جا سکے۔تعلیمی اور تحقیقی میدان میں وزارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی قرات مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں 37 ممالک کے قراء نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ 50 ویں عالمی سیرت کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں او آئی سی کے تحت بین الاقوامی وفود شریک ہوئے۔ وزارت نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 50 سال کے سیرت مقالہ جات کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور علمی مقابلوں میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور سرقہ کی جانچ کا نظام متعارف کرایا ہےقرآن کریم کی اغلاط سے پاک طباعت اور شہید اوراق کی تقدس کے ساتھ تلفی کے لیے ری سائیکلنگ پلانٹ کی تنصیب بھی آخری مراحل میں ہے۔بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پہلی مرتبہ باقاعدہ بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی منظور کی ہے۔ پارلیمنٹ سے ’قومی کمیشن برائے اقلیت ایکٹ‘ کی منظوری کے ذریعے اس ادارے کو مکمل قانونی و انتظامی خود مختاری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر مسلم مستحق افراد اور طلبہ کے لیے سکالرشپ اور فلاحی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ ہولی، دیوالی اور کرسمس جیسے تہواروں کو سرکاری سطح پر منا کر دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت اور روادار چہرہ پیش کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا اور انتہا پسندی کے چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت کا ویب ایویلیوایشن سیل نہایت
مستعدی سے کام کر رہا ہے جس نے 74 ہزار سے زائد توہین آمیز اور قابل اعتراض لنکس بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو بھجوائے ہیں۔ انتظامی محاذ پر وزارت نے 60 فیصد خالی آسامیوں کو ختم کر کے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے جس سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرتارپور راہداری کی سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحالی اور اسلام آباد میں یکساں نظام صلوٰۃ کا نفاذ وزارت کی ان ترجیحات کا حصہ ہے جن کا مقصد معاشرے میں نظم و ضبط اور مذہبی رواداری کو فروغ دینا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ پچھلے سال 60ہزار عازمین پرائیویٹ حج سکیم کے تحت حج پر نہیں جاسکے جس پر وزیراعظم نے مختلف انکوائریاں کرائیں جس کے بعد اس سال پرائیویٹ حج کوٹہ کم کر دیا گیا ہے۔ اس سال بھی پرائیویٹ حج آپریٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پچھلے سال والے حاجیوں جنہیں پیسے واپس نہیں دیئے انھیں پہلے شامل کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو خواتین مطمئن ہیں کہ وہ محرم یا سرپرست کے بغیر حج و عمرہ کرسکتی ہیں وہ بالکل جاسکتی ہیں، اب تو خواتین کے الگ سے گروپس بھی بن رہے ہیں۔خواتین اکیلی جائیں تو انھیں سرٹیفکیٹ دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ طبی بنیادوں پر یاہاردڈ شپ کوٹہ پر کامیاب نہ ہونے والے عازمین کو پورے پیسوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی رکن اسمبلی یا قائمہ کمیٹی اراکین کو وزارت کی جانب سے فری حج نہیں کرارہے، جو بھی جائے گا وہ اپنے اخراجات برداشت کرے گا۔
