اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلاحی اداروں کی موثر کارکردگی شفاف گورننس اور مضبوط پالیسی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں، ادارہ جاتی استحکام، مالی نظم و ضبط اور واضح پالیسی سمت فلاحی خدمات کے تسلسل اور اعتماد کے لیے بنیادی ستون ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو المیزان فائونڈیشن کے جاری فلاحی منصوبوں کے جائزے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں وہ المیزان فائونڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے صدر کی حیثیت سے شریک تھے۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) مشیر عالم، چیئرمین کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن جسٹس (ر) محمد طارق عباسی، وائس چیئرمین اور المیزان فائونڈیشن کے سیکرٹری نے شرکت کی۔اجلاس میں فائونڈیشن کے فلاحی
مینڈیٹ، پالیسی ہم آہنگی، گورننس کے ڈھانچے اور مالی استحکام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ 1995ء میں قائم ہونے والی المیزان فائونڈیشن ضلعی عدلیہ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز، عدالتی عملے اور ان کے اہل خانہ بشمول مرحوم مستحقین کے زیر کفالت افراد کو منظم فلاحی معاونت فراہم کر رہی ہے۔فائونڈیشن شفافیت، جوابدہی اور طویل المدتی ادارہ جاتی بقا کو یقینی بنانے کے لیے واضح گورننس فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہے۔اجلاس کے دوران فلاحی خدمات کی موثر فراہمی سے متعلق اہم پالیسی اور انتظامی امور زیر غور آئےجن میں اثاثہ جات کا بہتر انتظام، معاہداتی و قانونی معاملات، مالی ضابطہ کاری اور ٹیکسیشن کے امور شامل تھے۔ اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ پائیدار پالیسی اقدامات کے ذریعے ادارہ جاتی وسائل کا موثر استعمال ممکن بنایا جائے اور صحت، تعلیم اور ملازمین کی سہولت کاری جیسے شعبوں میں فلاحی اقدامات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جائے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کے چیئرمین جسٹس (ر) مشیر عالم کی دور اندیش قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی میں المیزان فائونڈیشن کی گورننس، پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی وقار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے فائونڈیشن کے موجودہ سیکرٹری ضیاء الرحمان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، انتظامی محنت اور اصلاحات پر مبنی اقدامات کی بھی تعریف کی۔اجلاس میں اس امر کا اعتراف کیا گیا کہ واضح وژن، منظم نگرانی اور مضبوط قیادت کے نتیجے میں المیزان فائونڈیشن کی ساکھ اور فعالیت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ادارہ مستقبل میں بھی ایک مستحکم اور قابل اعتماد فلاحی ادارے کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے گا۔
