اسلام آباد,( نمائندہ خصوصی)لوک ورثہ کی جانب سے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تعاون سے جاری لوک میلہ 2025 میں بلوچستان پویلین صوبے کی ثقافتی ورثے، آرٹس، دستکاری، موسیقی اور روایتی کھانوں کی دلکش نمائش کے باعث شرکا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔حکومت بلوچستان کے محکمہ ثقافت کی جانب سے قائم کردہ یہ پویلین میلے کی اہم ترین کشش بن چکا ہے۔ اس کا خوبصورت داخلی راستہ روایتی بلوچی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہےجو آنے والوں کو بلوچستان کے دل میں داخل ہونے کا احساس دلاتا ہے۔پویلین میں مختلف ماہر کاریگروں نے اپنی ہنرمندی کا مظاہرہ کیا جن میں کنیز فاطمہ اور شاکر بی بی
شامل ہیں جو بلوچی کڑھائی کے لیے مشہور ہیں۔ آرزی خان نے لکڑی کے کام اور روایتی موسیقی کے آلات کی تیاری کا فن پیش کیاجبکہ فضل کاکڑ نے بلوچی کڑھائی اور روزی خان نے روایتی بلوچی کی نمائش کی۔خصوصی طور پر قابل ذکر کنیز فاطمہ ہیں جو 48 سالہ معروف خاتون ہنرمند ہیں اور گزشتہ 26 برس سے لوک میلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ وہ اپنی اعلیٰ مہارت اور لگن کے باعث بے پناہ عزت و مقام رکھتی ہیں۔انہوں نے کئی شاگردوں کو تربیت دی جو آج باصلاحیت کاریگر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں روایتی کڑھائی کے فروغ اور نوجوان نسل تک اسے پہنچانے کے لیے متعدد اعزازات اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ثقافتی تجربے کو مزید خوبصورت بنانے کے لیےشرکا بلوچستان کی مشہور روایتی ڈش ’’سجی‘‘ سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں، جو اپنی اصل بلوچی ذائقے اور منفرد تیار کرنے کے انداز کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں میں خاصی مقبول ہو رہی ہے۔ہفتے کی شب بلوچستان میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف لوک گلوکاروں اور موسیقاروں نے شاندار پرفارمنسز سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ ان فنکاروں میں اختر چنال، عروج فاطمہ، ذاکر حسین، محمد بلوچ، عظیم جان، محمد قاسم، معین شیرانی اور محمد عاصم شامل تھے۔ ان کی روح پرور گائیکی کو شاندار داد ملی۔رنگا رنگ لوک میلہ 16 نومبر تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر کے مختلف صوبوں کی متنوع اور دلکش ثقافتیں ایک ہی جگہ دیکھنے کا موقع میسر آئے گا۔
