• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

آصف زرداری کے وفادار دوست آغاسراج درانی کی المناک موت؟

قائم علی شاہ وزیر اعلی کیسے بنے، ان کی لاٹری کیسے لگی؟ یاروں کے یار کو مخلص دوستوں سے لڑوانے والے کون ہیں؟ زرداری صاحب کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی داستاں؟

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
نومبر 6, 2025
in پاکستان
0
آصف زرداری کے وفادار دوست آغاسراج درانی کی المناک موت؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کراچی (رپورٹ:آغاخالد)جبکہ زرداری صاحب اسلام آباد میں وفاقی حکومت تشکیل دے رہے تھے ہفتہ 10 روز بعد وہ جب کراچی پہنچے اور انہوں نے سندھ میں حکومت بنانے کے لیے اجلاس بلایا تو اس میں آغا سراج کی مخالفت بہت زیادہ دیکھنے کو ملی وزارت اعلی کے دیگر امیدوار تل گئے کہ اگر "ہم نہیں تو تم بھی نہیں” جس پر قرعہ فال سید قائم علی شاہ کا نکل آیا اور یوں آغا سراج کی شیروانی زیب تن کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا بعد میں انہیں کابینہ کی تشکیل میں بلدیات کا اہم قلمدان سونپا گیا جبکہ زرداری صاحب نے اپنے دوسرے لنگو ٹیے ذوالفقار مرزا کے حوالے داخلہ کا قلمدان کردیا جس پر مخالفین نے جملے بھی کسے اور سندھ حکومت کو "فرینڈلی حکومت” کہا جانے لگا مگر زرداری صاحب کی یہ بڑی خوبی ہے کہ وہ مخالفین کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنا کام اپنی مرضی سے جاری رکھتے ہیں کمال یہ ہے ان کا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانشینی جو کسی طرح بھی کانٹوں کی سیج سے کم نہ تھی، کے حصول کے بعد چند برس میں ہی اپنے فیصلوں سے سیاسی پنڈتوں کی ساری پیشن گوئیاں غلط ثابت کردیں "برگد کے درخت کے نیچے گلاب نہیں کھلتا” ایسی مثالوں کو انہوں نے غلط ثابت کردیا اور نقادوں کو منہ کی کھانی پڑی آج وہی آصف علی زرداری ایک کامیاب سیاستداں سمجھے جارہے ہیں ان کے بدترین مخالفین بھی منہ بگاڑ کر ہی سہی اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان جیسا گھاگ سیاستداں موجودہ عہد میں کوئی نہیں ان کی کامیابی کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا دی جاسکتی ہے کہ وہ ایک ایسی پارٹی کے شریک چیرمین ہیں جس کے بانی کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا دوسری چیرمین کو راولپنڈی میں سر عام شہید کردیا گیا ان کی جماعت پرشراکت اقتدار کے لیے "کاٹا” لگا دیا گیا تھا مگر وہ اسی اسٹبلشمنٹ سے لڑتے جھگڑتے دوست اور دشمنی کا سفر طے کرتے ملکی تاریخ میں پہلی ایسی شخصیت بن گئے جو صدر مملکت کے منصب پر نہ صرف 2 مرتبہ فائز ہوے بلکہ ہربار مدت معیاد بھی پوری کی ان کی جماعت 2008 سے سندھ میں برسر اقتدار ہے اس کے علاوہ بلوچستان کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی انہوں نے حکومتیں بناکر دکھائیں ان تمام کامیابیوں کے ساتھ ان کی بڑی کمزوری اعتقاد کا فقدان اور کانوں کا کچا ہونا ہے جس کا فائدہ ہر دور میں ان کے قریبی ساتھیوں میں سازشی ذہن اٹھاتے رہے ہیں انہوں نے ہی زرداری صاحب تک غلط رپورٹس پہنچا کر ان کے لنگوٹیے یاروں سے لڑوایا 2012 میں پی پی حکومت کی معیاد کے خاتمہ کے قریب آتے ہی ذوالفقار مرزا سے زرداری صاحب کے تحفظات میں اضافہ ہونا شروع ہوا مرزا کے اسٹبلشمنٹ کے زیادہ ہی قریب ہونے اور ان کے ایجنڈا پر عمل کرتے ہوے الطاف حسین کے خلاف پریس کانفرنسیں کرنے پر بدگمانیوں میں اضافہ ہوا کیونکہ الطاف حسین کی پارٹی سندھ میں حکومت کی اتحادی اور سندھ حکومت میں شامل بھی تھی زرداری صاحب کو شبہ تھا جو بعد میں درست بھی ثابت ہوا کہ اسٹبلشمنٹ اگلے انتخابات میں ان کے لیے مشکلات کھڑی کرنا چاہ رہی ہے اور مرزا ان سے مل گیا ہے، رہی سہی کسر اسلام آباد کے ایک صحافی نے پوری کردی جس نے زرداری صاحب کا پورا انٹرویو ہی مرزا کے خلاف ایک چینل کے لیے کیا جس میں زرداری صاحب نے پہلی دفع شاعرانہ انداز میں مرزا پر تنقید کرتے ہوے مشہور شعر پڑھا تھا،
دیکھا جو کھاکے تیر کمین گاہ کی طرف،
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی؟
اس دوران پارٹی میں موجود سازشی عناصر نے زرداری صاحب کے کان بھرنا شروع کردیے کہ مرزا اور درانی سندھ لوٹ کر کھا گئے ممکن ہے کہ ان دونوں سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہوں جس کا ایک آدھ ثبوت بھی زرداری صاحب کو دکھایا گیا ہو، ویسے بھی زرداری صاحب کی تاریخ رہی ہے کہ وہ کبھی اپنے دشمن کو معاف نہیں کرتے لہذا 2012 میں وہ مرزا کے گھر پہنچ گئے اور حساب کتاب کا پرچہ ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اپنی ساری نعمتیں واپس مانگ لیں آگے بھی مرزا تھا زرداری کا بچپن کا دوست ہر ہر لمحہ کا ساتھی، کہتے ہیں "پوت کے پائوں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں” دونوں ایک دوسرے کے وزن سے آگاہ تھے سو بات مونڈھے نہ چڑھی مرزا نے صرف وہی لوٹا یا جو زرداری صاحب نے ہاتھ سے دیا تھا، یہاں تک تو سب ٹھیک تھا اگلے روز زرداری صاحب اپنے صدارتی پروٹو کول کے ساتھ آغا سراج کے گھر جا دھمکے آغا نے کچھ غلط کیا ہوتا تو وہ مانتا وہ تو ویسے بھی پٹھان بچہ تھا اڑ گیا اور صاف انکار کردیا آغا سراج کے سامنے بھی رجسٹر کھولنا زرداری صاحب جیسے جہاں دیدہ کا، عقل آج بھی ماننے کو تیار نہیں ہر اچھی بری گھڑی میں ساتھ دینے والے دوست کو بھی ہندسوں میں تولنا کہاں کی دانش مندی تھی یہاں سے بچپن کے تعلقات میں دراڑ آگئی جب زرداری صاحب ان کے گھر میں دھرنا دیے بیٹھے تھے مجھے وہ دن یاد آگئے 1991/92 میں محترمہ بے نظیر کی حکومت ختم کی گئی تھی اور میں سکھر سے دو تین روز کے لیے کراچی آیا تو پولیس ہیڈ آفس میں اس وقت کے ایس ایس پی سی آئی اے سلیم اختر صدیقی سے ملنے چلا گیا انہوں نے مجھے ایکس کلوزو خبر دی کہ آغا سراج درانی کو شکار پور سے گرفتار کرکے جہاز سے کراچی لایا جارہاہے یہ صبح 9/10 بجے کا وقت تھا وہ خبر اسی دن کے شام کے اخبار قومی اخبار میں چھپی، آغا کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ آصف زرداری کا دوست تھا پھر اس کے بعد بھی کئی بار آغا مرحوم کو حراست میں لیا گیا اور زرداری صاحب کی مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف سرکاری یا وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دبائو ڈالا جاتا رہا مگر آغا سراج کے ارادوں میں کبھی لرزش نہ آئی مگر زرداری صاحب نے سازشی عناصر کے ایما پر ان سے نہ صرف آنکھیں پھیر لیں بلکہ ان پر اقتدار کے دروازے بھی بند کردیے جس کا آغا صاحب کو بہت دکھ تھا وہ اس کا ذکر کسی سے نہیں کرتے تھے مگر کوئی سائل انہیں خوش کرنے کے لیے ایسی بات کرتا تو ان کے چہرے پر تفکر کی لکیریں مزید گھری ہو جاتیں دوسرا دکھ انہیں نئی نسل کے سندھی نوجوانوں کے رویہ سے پہنچا آغا سراج کے منصب سے فائدہ اٹھانے کی خاطر کراچی میں رہائش پذیر کچھ افغانیوں اور پاکستانی پختونوں نے انہیں سرداری کی پگڑی پہنائی جس کے کچھ ہی عرصہ بعد جام شورو حیدر آباد کے ایک کوئٹہ ہوٹل پر کچھ جرائم پیشہ سے ہوٹل والوں کا جھگڑا ہوا جسے سندھی پٹھان جھگڑا بنادیا گیا اور اس کی آڑ میں آغا سراج درانی کو بھی سندھ دشمن اور افغانی وغیرہ کے خطابات سے نواز تے ہوے ان کے لیے انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کی گئی اور انہیں بھی سندھی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوے انہیں سندھ بدر کرنے کی سوشل میڈیا پر تحریک چلائی گئی جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوے اور کہاکہ یار 3 صدیوں کے بعد بھی ہم اگر سندھی نہیں ہیں تو پھر واقعی یہاں سے کوچ کرنا چاہیے آغا سراج درانی جیسے سنجیدہ باوقار اور نفیس شخص کو یہ دونوں صدمات لے بیٹھے، مرحوم نے 2 شادیاں کیں پہلی بیگم سے 3 بچے تھے ایک بیٹا 2 بیٹیاں شہباز درانی ان کے فرزند ہیں دوسری شادی سابقہ پیر پاگارا کی بیٹی اور مو جودہ پیر صا حب پاگارا کی بہن سے کی جو بیوہ تھیں اور ان کی بھی آغا صاحب سے دوسری شادی تھی ان کے پہلے شوہر سے جو بچے تھے ان کی پرورش آغا سراج درانی نے اپنے بچوں کی طرح ہی کی، وہ پیری فقیری کے بھی دلدادہ تھے خصوصا سہون شریف میں شہباز قلندر کے مزار پر اکثر جاتے اور چادر چڑھاتے لوگوں کو کھانا کھلاتے خیرات کے بھی سخی تھے، صد افسوس ایسا ہیرا پی پی نے کھودیا آج میں بہت دکھ سے یہ تحریر لکھ رہا ہوں وہ میرے اچھے دوست محسن اور خیر خواہ تھے ہماری 30 سالہ دوستی میں بہت سے نشیب و فراز آئے وہی جو ایک مجھ جیسے نکمے صحافی اور ایک باوقار سیاستداں کے تعلقات میں ہوتا آیاہے وہ میری کسی خبر پر ناراض ہو جاتے اور مہینوں بات نہ ہوتی پھر عید بقر عید پر ضرور مبارکباد کا پیغام بھیجتے اور فون کرتے یوں ہماری دوستی کی زنجیر پھر وہیں سے جڑجاتی جہاں سے ٹوٹی تھی ہر تہوار کے موقع پر وہ سب دوستوں کو یاد کرتے انہوں نے پہلے دن سے مجھے مائٹ (سندھی میں رشتہ دار یا پیارے کو کہتے ہیں) یا آغا جان کہ کر پکارا، فون بھی کرتے تو گرج دار آواز میں بھی اپنائیت یوں رچی بسی ہوتی دل باغ باغ ہو جاتا، آہ آغاجان ہم اب اس اپنائیت کو ہمیشہ ترسیں گے کیا جلدی تھی اے سلطان کوٹ کے شہزادے، ان کی انسان دوستی کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ وہ سنی العقیدہ تھے مگر گڑھی یاسین میں انکی حویلی میں مسجد کے کچھ فاصلہ پر علم بھی بلند ہے وہ ہمیشہ رواداری کے سفیر رہے گڑھی یاسین میں ان کی تدفین کے موقع پر میں حیرانی سے سوچ رہا تھا یہ کمبخت بے جان مٹی ایسے کڑیل اور حسین جوانوں کو کیسے مٹی کر دیتی ہے اسی مٹی کی آغوش میں آغا سراج درانی کو بھی سلادیا گیا اس کے ساتھ ہی ایک عہد کا اختتام ہوا فرشتوں نے یقینا تاریخ کا ایک ورق اور پلٹ دیا ہوگا۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے (آمین)

پچھلی پوسٹ

امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کردیا

اگلی پوسٹ

فلپائن میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘نے تباہی مچا دی، 140 افراد ہلاک، 127 لاپتہ ہو گئے

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
فلپائن میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘نے تباہی مچا دی، 140 افراد ہلاک، 127 لاپتہ ہو گئے

فلپائن میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘نے تباہی مچا دی، 140 افراد ہلاک، 127 لاپتہ ہو گئے

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper