وزیرآباد۔,( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ہفتہ کو وزیرآباد آمد گئے جہاں انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کے بہنوئی اور چوہدری پرویز الہی کے ہم زلف چوہدری جاوید چٹھہ کے انتقال پر تعزیت کی ۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے بھائی اور ضمنی انتخابات کے لیے وزیرآباد سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری بلال فاروق تارڑ اور ایم پی اے عدنان افضل چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔چوہدری جاوید چٹھہ کے انتقال پر انہوں نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے بہترین اقدامات کر رہی ہے ۔بجلی کے بلوں میں ریلیف اس کی واضح مثال ہے جبکہ فصلوں ،مویشیوں اور دیگر نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا جا رہا ہے، جلد سیلاب متاثرین کو حکومت کی جانب سے ریلیف فراہم ہو گا ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کالعدم ٹی
ایل پی کے خلاف وفاقی کابینہ کو پنجاب حکومت کی جانب سے کافی شواہد ملے ہیں جس میں ٹی ایل پی کی جانب سے پر تشدد کارروائیاں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مریدکے میں پنجاب پولیس کے شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کالعدم ٹی ایل پی نے پی ٹی آئی حکومت سے بھی مشروط معاہدہ کیا تھا کہ پرتشدد و ہنگامہ آرائی جیسی کاروائیاں نہیں کریں گے، اس کی بھی انہوں نے خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے اور اس کا جواب یہ نہیں کہ مذہب کو درمیان میں لا کر یا ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کی جائے ،قوم کا پیسہ ہے ،کس طرح ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت دی گئی ۔ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کا منصب یہ نہیں کہ کسی کی تصویر صاف کرے یا کسی کی چپل کا سائز دے یا جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھا رہے بلکہ وزیر اعلی کا کام عوامی فلاحی منصوبے ہیں جیسے ستھرا پنجاب ایک منصوبہ ہے ایسے اقدامات کرنا جس سے عوام کو فائدہ ملے اور ان کی فلاح ممکن ہو اگر وہ نہیں جانتے تو انہیں آئین پڑھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جاوید چٹھہ مرحوم کو 1992 سے جانتا ہوں ،میرے دادا کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات تھے ،ہم سے بڑی شفقت کرتے۔ انہوں نے جاوید چٹھہ کے پسماندگان سے اظہار تعزیت و بلندی درجات کی دعا کی۔
