کراچی(نمائندہ خصوصی)ادارہ ترقیات کراچی میں ممبر فنانس کی رٹ چیلنج اور مبینہ طور پر من مانیاں کرنے پر ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس کو عہدے سے برطرف کردیا گیا،ڈی جی کے ڈی اے نے مساوی گریڈ کے افسر کی تعیناتی کے بجائے محکمے کے جونیئر او پی ایس افسر کو ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس کے عہدے پر تعینات کردیا۔تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی میںافسران کی تعیناتیوں میں عدالتی احکامات کی کھلے عام پامالی کا سلسلہ جاری ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس کے عہدے پر تعینات گریڈ19 کے افسر کاشف صدیقی کو عہدے سے ہٹاکر انہیں سینئر ڈائریکٹر ٹریفک انجینئرنگ بیورو تعینات کردیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ محکمے کے گریڈ18 کے جونیئر افسر سہیل باسط کو ڈائریکٹر ایف
اینڈ اے کے عہدے سے نوازدیا گیا ہے ،کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے میں ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس کی پوسٹ گریڈ19 کی ہے ،ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے عدالتی احکامات کیخلاف او پی ایس افسر کو ادارے کے مالی امور کا سربراہ بنادیا ہے،دوسری طرف ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈائریکٹر ایف اینڈ اے کے عہدے سے کاشف صدیقی کو ممبر فنانس کے احکامات کو نظر انداز اور ممبر فنانس کی رٹ کو چیلنج کرنے سمیت محکمے میں مبینہ طور پر من مانیاں کرنے پر برطرف کیا گیا ہے،تاہم افسران کا کہنا ہے کہ عہدے سے ہٹائے گئے کاشف صدیقی کی جگہ گریڈ19 کے ہی کسی سینئر افسر کو تعینات کیا جانا چاہئے تھا ۔لیکن ڈی جی کے ڈی اے نے نامعلوم وجوہات اور مبینہ کسی دبائو پر گریڈ18 کے جونیئر او پی ایس افسر سہیل باسط کو ادارے کے مالی امور کا سربراہ تعینات کرکے عدالتی احکامات کی بھی پرواہ نہیں کی ہے۔ سینئر افسران نے مذکورہ تعیناتی پر چیئرمین گورننگ باڈی اوروزیر بلدیات سندھ سعید غنی،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے علاوہ عدالت عالیہ سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے
