کراچی(رپورٹ:حافظ محمد قیصر) کراچی کے ضلع ملیر میں سرکاری اراضی پر قبضوں کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوگیا ہے قبضہ مافیا کو تھانہ اسٹیل ٹاون کے ایس ایچ او علن عباسی اور ڈی ایس پی بن قاسم کی مبینہ طور پر سرپرستی حاصل ہے قبضہ مافیا اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر دن دیہاڑے قبضہ کرنے میں مصروف عمل ہیں جنہیں روکنے اور پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہے تھانہ اسٹیل ٹاون کی حدود میں واقع ناکلاس 344 کی 56 ایکڑ اراضی پر قبضہ مافیا نے قبضہ شروع کردیا ہے اس وقت قبضہ مافیا کی جانب سے مین نیشنل ہائی وے پر واقع ناکلاس 344 کی 52 ایکڑ اراضی اور 50 بیڈ اسپتال کے عقب میں واقع ناکلاس 344 کی 4 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا جارہا ہے انتہائی باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ایس ایچ او علن عباسی کو اس وقت قبضہ مافیا نے اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے جس کی وجہ سے “مال پر دھمال” کے ضرب المثل محاورے پر ایس ایچ او اسٹیل ٹاون کو سرکاری اراضی ہر ہونے والے قبضوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اور ایس ایچ او اسٹیل ٹاون علن عباسی نے مافیاز کو اربوں روپے مالیت کی سرکاری وناکلاس اراضی پر قبضہ کروانے کی مکمل چھوٹ فراہم کررکھی ہے دوسری جانب سرکاری
اراضی پر قبضوں کے حوالے سے کمشنر کراچی، لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی کمشنر ملیر سلیم اللہ اوڈھو،اسسٹنٹ کمشنر بن قاسم ٹاون کی مجرمانہ خاموشی بھی متعدد سوالوں کو جنم دے رہی ہے اور عام عوام میں اسٹیل ٹاون پولیس کی جانب سے مافیاز کی سہولت کاری کا کردار ادا کرنے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ سندھ پولیس کے کرتا دھرتا اور مالکِ کُل جناب آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو کراچی پولیس کے افسران کو “B” کمپنی بھیجنے اور ایڈیشنل آئی جی صاحب کو ایس ایچ اوز کے انٹرویوز کرنے سے فرصت ہی نہیں مل رہی ہے کہ انکے لگائے گئے ایس ایچ اوز قبضہ مافیا کے سہولت بن کر اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کروانے میں ملوث ہیں واضح رہے کہ ایس ایس پی ملیر نے حالیہ “کرائم میٹنگ” میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاتفریق قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں واضح رہے کہ مذکورہ اراضی ایک عرصے تک نیب کی تحویل میں رہی ہے ذرائع نے بتایا کہ ایس ایچ او علن عباسی نے سرکاری اراضی پر پلاٹنگ کرنے کا ٹھیکہ اور فی پلاٹ 35 سے 40 ہزار روپے کی وصولی کا ذمہ نور حسن ٹانوری نامی شخص کو دیا ہے جو انتہائی ایمانداری کے ساتھ ایس ایچ او علن عباسی کو مال جمع کر کے پہنچاتا ہے ایس ایس پی ملیر کاشف آفتاب عباسی کو معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور سرکاری اراضی پر قبضہ کروانے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنی چاہیے تاکہ اربوں روپے مالیت کی قیمتی اور سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے بچایا جاسکے اور حکومت پاکستان کے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے کرپٹ وبدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

