• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

بچی تعلیم ، صحت کے ساتھ بہتر مستقبل کی بھی حقدار ہے۔ نیلوفر بختیار

ہماری بچیوں کو صحت کے حوالے سے، خاص کر اگلی نسل کو کم عمری کی شادی کے انتہائی برے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں ۔یہ ہمارے قانون ساز اداروں کی بہت بڑی ناکامی ہے کہ چھ بار کم عمری کی شادی کے بارے قانون سازی کے لیے بل بھیجا گیا لیکن پاس نہ ہو سکا۔ چیرپرسن نیلوفر بختیار

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اکتوبر 11, 2023
in پاکستان
0
بچی تعلیم ، صحت کے ساتھ بہتر مستقبل کی بھی حقدار ہے۔ نیلوفر بختیار
0
SHARES
22
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے اپنے ڈویلپمنٹ پارٹنرز یونیسیف، یو این ایف پی اے، یو این وومن، ایف سی ڈی او اور یوکےایڈ کے اشتراک سے آج اسلام آباد میں کم عمری کی شادی ختم کرنے سے متعلق دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جسکا اہتمام 11 اکتوبر، انٹرنیشنل گرل چائلڈ ڈے کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ان پٹ کا جائزہ لے کر کم عمری کی شادی کے خاتمے کے حوالے سے قومی فریم ورک مرتب کرنا تھا۔ اس کانفرنس کے دوران ،قومی سطح پر مشاورت کے بعد، پالیسیز پر بحث کرنے کے لئے صوبائی سطح پر مشاورت بھی کی جائے گی۔ کانفرنس میں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، صوبائی محکموں، نامور پالیسی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنوں، طبی ماہرین، معززین، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو محترمہ نیلوفر بختیار نے کہا کہ یہ ایک بدقسمتی ہے کہ ملک میں کم عمری کی شادی کو روکنے کا بل مقننہ میں تقریباً چھ بار بھیجا گیا لیکن پاس نہیں سکا۔ یہ بل ہر بچی کی تعلیم اور صحت کے حق کو محفوظ کرتا ہے لیکن یہ بل ہمارے اداروں کی بڑی ناکامی بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ لاکھوں لڑکیاں موجودہ معاشرتی اور معاشی حالات کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتیں، وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی طرف سے ایک صحت مند ماحول اور بھرپور حمایت کے مستحق ہیں۔ سب سے بڑی ستم ظریفی چاروں صوبوں میں شادی کے لئے قانونی عمر میں فرق ہے۔ یہ امر نے پالیسی سازوں اور نفاذ کرنے والوں سے فوری توجہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سول سوسائٹی پر مضبوط اعتماد رکھتی ہیں ؛ جب بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے تو حالات بدلے ہیں۔ انھوں نے تہیہ کیا کہ وہ کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے ایجنڈے کو اپنے معاونین کے ہمراہ آگے بڑھائیں گی کیونکہ یہ ایک ایسی لعنت ہےجو بہت ساری نسلوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے -اس موقع پر محترمہ لاٹکا مسکی پردھان، ڈپٹی کنٹری ریپ آف یو این ایف پی اے نے کہا کہ پاکستان میں اڈلوسنٹ فرٹیلٹی کی شرح 15-19 سال کی عمر میں 46 فی ہزار ہے۔ پچیوں کے پرائمری اسکول چھوڑنے کی شرح 22.7 فی صد ہے، جو اس خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ جہاں %32 شادی شدہ بچیاں (15-19 سال کی عمر) صنفی بنیاد پر تشدد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کی ضرورت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہے کہ کم عمری کی شادی کو روکنے، ختم کرنے اور اس کا جواب دینے کے لئے جامع اقدامات موجود ہوں، اس طرح تمام بچیوں کو بچپن کی مکمل نشونما اور ضروری تحفظات کا احساس دلانے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔ اس ہدف کے لئے اجتماعی نقطہ نظر ہی آگے بڑھنے کا واحد حل ہے۔ محترمہ دانیالا لوکیانا، چیف چائلڈ پروٹیکشن یونیسف نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بچیوں کی حفاظت کرنے والی پالیسیاں نافذ کرنے اور قوانین نافذ کرنے کے لئے قیادت اور عزم انتہائی اہم ہیں۔ ایک مضبوط قانونی فریم ورک کی ضرورت تھی جو نہ صرف بچیوں کی شادی پر پابندی لگاتا ہو بلکہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے احتساب کو بھی یقینی بناتا ہو۔
کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کنٹری ریپ یو این وومن مسٹر فرینکلن اوکمو نے کہا کہ افراد، خاندانوں اور برادریوں سے ماورا، بچیوں کی شادی پر معاشی نقصان بھی بہت زیادہ ہے۔ این سی ایس ڈبلیو اور یو این وومن کے ایک مطالعے سے پتہ چلا کہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی کل لاگت 8. بلین ڈالر یا جی ڈی پی کا 0.42 فیصد ہے۔ ک۔ عمر دلہنیں خود زندگی سمیت صحت کے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حمل اور بچے کی پیدائش میں عالمی سطح پر پیچیدگیاں 15-19 سال کی عمر کی لڑکیوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ھیں۔ انہوں نے اختتام میں دہرایا کہ، "براہ مہربانی میری بچی کے ساتھ گڑبڑ نہ کریں۔مہمان خصوصی محترمہ جو موئیر ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر ایف سی ڈی او نے اپنے اختتامی ریمارکس میں کہا کہ بچیوں کی شادی سخت نتائج کے ساتھ ایک نقصان دہ عمل ہے جو نسلوں کو متاثر کرتا ہے اور مساوات میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنے کے لئے بچیوں کی شادی ختم کرنے سے متعلق قومی فریم ورک ضروری تھا۔ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطہ قائم کیے بغیر اس مسئلے پر مشترکہ بیانیہ استوار کرنا اور شادی کی عمر بڑھانے کے لیے سماجی اور سیاسی مزاحمت پر قابو پانا مشکل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کام کے س فریم ورک کی ٹائمنگ مناسب ہے کیونکہ یہ اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لئے انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی بنیاد رکھے گی۔بعد ازاں ایک سرکاری اسکول میں نویں جماعت کی طالبہ ملائکہ عارف نے حاضرین کے ساتھ اپنے خیالات اور خوابوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ محنت، اختراعی خیالات اور مخصوص رنگوں کے ساتھ اپنے عزائم کو پورا کرنا چاہتی ہیں لیکن سماجی رویے اور ذہن سازی ان کے خوابوں کی تعبیر کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔اس کے بعد ایک مجوزہ فریم ورک پیش کیا گیا جس میں مختلف شعبوں میں عمل درآمد کے لئے تجاویز پیش کی گئیں جس کے بعد کم عمری کی شادی کے صحت اور معاشرتی نتائج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جو اس نتیجے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ ذہنوں اور سماجی طرز عمل اور نقطہ نظر کو تبدیل کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ پاکستانی معاشرے میں قانون سازی۔ اور یہ ملک میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کا واحد ٹھوس حل ہے۔

پچھلی پوسٹ

امریکی بحری بیڑہ مشرقی بحیرہ روم پہنچ گیا.

اگلی پوسٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد

Please login to join discussion

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper