• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرویوز

خواتین میں بڑھتا موٹاپا — ہارمونی تبدیلیوں کا نتیجہ یا لاپرواہی؟

دلکش اشتہارات کے ذریعے بیچے جانے والی غیر معیاری دوائیں یا سپلیمنٹس جگر اور گردوں کو نقصان پہنچاکے علاوہ زندگی کیلئے خطرہ   وزن بڑھناایک میڈیکل کنڈیشن ہے،عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد موٹاپےکی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ڈپریشن ذہنی دباؤ، شادی ، بچوں کی پیدائش دودھ پلانا ،ہارمونی تبدیلیاںخواتین کے وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔فاسٹ فوڈ، بیکری آئٹمز، زیادہ تلی ہوئی اشیاء، سافٹ ڈرنکس اور تمباکویا شراب نوشی مردوں کے میٹابولزم کو سست کر کے موٹاپابڑھا تی ہے وزن گھٹانے کے لئے کسی جادوئی نسخے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی بہترین حل ہے ڈاکٹر جویریہ، نیوٹریشن ہیلتھ اسپیشلسٹ اور یوگا انسٹرکٹر، پاک ہسپتال لاہور سے گفتگو

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اکتوبر 4, 2025
in انٹرویوز
0
خواتین میں بڑھتا موٹاپا — ہارمونی تبدیلیوں کا نتیجہ یا لاپرواہی؟
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور (انٹرویو: عالیہ خان)موٹاپا آج دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا المیہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی رپورٹس کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے؛ مختلف تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کی ایک بڑی آبادی، خاص طور پر خواتین اور نوجوان، موٹاپے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے دوچار ہیں۔ غیر متوازن خوراک، تیز فاسٹ فوڈ کلچر، سست طرزِ زندگی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی اس بیماری کو اور زیادہ پھیلا رہی ہے۔انہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے پاک ہسپتال لاہور کی نامور نیوٹریشن ہیلتھ اسپیشلسٹ اور یوگا انسٹرکٹر، ڈاکٹر جویریہ سے خصوصی گفتگو کی۔ انہوں نے موٹاپے کی وجوہات، اس کے جسمانی و ذہنی نقصانات، اور اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اور علاج کے حوالے سے قیمتی معلومات فراہم کی ہیں جو قارئین کی نذر ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ !! سب سے پہلے تو آپ ہما رے پڑھنے والوں کو یہ بتائیں کہ مو ٹا پا کیا ہے، لوگ اسے صرف زیادہ وزن سمجھتے ہیں یا یہ کوئی بیماری ہے؟

موٹاپا دراصل صرف وزن بڑھنےکا نام نہیں بلکہ یہ ایک میڈیکل کنڈیشن ہے۔ جب جسم میں غیر ضروری چربی اس حد تک جمع ہو جائے کہ وہ ہماری صحت پر براہِ راست اثر ڈالنے لگے تو یہ بیماری بن جاتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر کسی کا BMI 30 سے زیادہ ہو تو اسے موٹاپا کہا جاتا ہے۔موٹاپا صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین طبی حالت ہے جو جسمانی، ذہنی اور سماجی زندگی پر گہرے منفی اثرات ڈالتی ہے۔ یہ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول بڑھنے، فالج اور ذیابیطس جیسی خطرناک بیماریوں کا بڑا سبب بنتا ہے، جبکہ جوڑوں اور ہڈیوں پر دباؤ ڈال کر آرتھرائٹس اور کمر درد کو جنم دیتا ہے۔ موٹاپے سے سانس کی تکالیف، نیند کے دوران سانس رکنے اور دمہ جیسی مشکلات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ خواتین میں ہارمونی بے ترتیبی، ماہواری کی خرابی اور بانجھ پن جبکہ مردوں میں ہارمونی کمزوری عام ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کینسر کے مختلف اقسام کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جسمانی نقصانات کے ساتھ ساتھ موٹاپا ذہنی دباؤ، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی اور سماجی مسائل جیسے ملازمت یا شادی میں مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں یہ سستی، تھکن، کپڑوں کا ناپ نہ ملنا اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی پیدا کر کے زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے اور عمر کو بھی مختصر کر دیتا ہے۔

لوگ عام طور پر کہتے ہیں زیادہ کھانے کی وجہ سے انسان موٹا ہوتا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر جویریہ کا کہنا تھا !!جی جزوی طور یہ بات ٹھیک ہے مگر مکمل حقیقت نہیں۔ موٹاپے کی وجوہات کئی ہیں۔ غیر متوازن خوراک، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی، ہارمونی مسائل، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور کچھ دوائیاں بھی وزن بڑھا دیتی ہیں۔ صرف زیادہ کھانا ہی موٹاپے کا سبب نہیں بلکہ طرزِ زندگی سب سے بڑی وجہ ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ کیوں ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر جویریہ کا کہنا تھا کہ خواتین میں موٹاپے کی کئی اہم وجوہات ہیں جو جسمانی، ہارمونی اور طرزِ زندگی سے جڑی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ہارمونی بے ترتیبی ہے، جیسے پی سی او ایس (PCOS) جو خواتین میں وزن بڑھنے کا عام مسئلہ ہے۔ شادی یا بچوں کی پیدائش کے بعد ہارمونی تبدیلیاں، دودھ پلانے کے دوران غیر متوازن غذا اور ورزش کی کمی بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھریلو مصروفیات، خود کے لئے وقت نہ نکالنا اور جسمانی سرگرمی کی کمی خواتین کو تیزی سے موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔ غیر صحت مند غذا، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال بھی خواتین کے وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور نیند کی کمی کے باعث بھی خواتین اکثر جذباتی طور پر کھانے لگتی ہیں جس سے موٹاپا بڑھتا ہے۔کیا خاندانی مسائل بھی اس میں شامل ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر جویریہ کا کہنا تھا جی ہاں!!! خاندان میں موٹاپے کی تاریخ (جینیاتی اثرات) بھی خواتین کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس طرح موٹاپا خواتین کی صحت، خوبصورتی اور اعتماد تینوں کو متاثر کرتا ہے اور بروقت توجہ نہ دینے پر کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

مردوں میں بھی مو ٹاپا بہت عام ہے آپ کی نظر میں اس کی وجوہات ہیں ؟جی بالکل !!مردوں میں موٹاپے کی بنیادی وجوہات زیادہ تر غیر صحت مند طرزِ زندگی اور غیر متوازن خوراک سے جڑی ہوتی ہیں۔ دفتر یا کاروبار کے اوقات میں زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ورزش نہ کرنا وزن بڑھانے کا بڑا سبب ہے۔ فاسٹ فوڈ، بیکری آئٹمز، زیادہ تلی ہوئی اشیاء، سافٹ ڈرنکس اور تمباکو نوشی یا شراب نوشی جیسی عادات بھی مردوں کے میٹابولزم کو سست کر کے موٹاپے کو بڑھا دیتی ہیں۔ ، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن بھی غیر ضروری کھانے یا جذباتی بھوک کو جنم دیتے ہیں، جس سے وزن تیزی سے بڑھتا ہے۔ بعض مرد ہارمونی مسائل، شوگر یا تھائیرائیڈ کی بیماری میں مبتلا ہوں تو بھی موٹاپا ان میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ جینیاتی اثرات اور عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی مردوں کی صحت پر سنگین اثرات ڈالتا ہے، جیسے دل کی بیماریاں، شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور جنسی کمزوری وغیرہ شامل ہیں۔

آج کل بچوں میں بھی وزن تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ کتنا خطرناک ہے؟جی بالکل !!یہ بہت خطرناک ہے! بچے کھیل کود کے بجائے موبائل اور ٹی وی میں وقت گزارتے ہیں، اوپر سے فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس ان کی خوراک بن گئی ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر شوگر اور دل کے امراض کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر کوئی وزن کم کرنا چاہے تو آپ کے مطابق سب سے مؤثر حل کیا ہے؟وزن کم کرنے کاحل بہت سادہ ہے مگریہ مسئلہ مستقل مزاجی مانگتا ہے۔موٹاپا کم کرنے کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں توازن پیدا کریںوزن گھٹانے کے لئے کسی جادوئی نسخے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی بہترین حل ہے۔ خواتین اور مرد دونوں کو چاہیے کہ فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور زیادہ تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں اور ان کی جگہ پھل، سبزیاں، دالیں اور ہلکی پھلکی غذائیں استعمال کریں۔ ڈاکٹر جویریہ کا کہنا ہے کہ دن میں بار بار کم مقدار میں کھانا وزن گھٹانے میں مدد دیتا ہے، اور کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پینا جسم کی چربی گھلانے کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کو بھی تیز کرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ! ہم اخبارات اور سوشل میڈیا پر اکثر ایسے اشتہارات دیکھتے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "صرف 7 دن میں 15 کلو وزن کم کریں” یا پھر "بغیر ورزش کے چٹکیوں میں موٹاپے سے نجات پائیں۔” ایسے اشتہارات لوگوں کو بہت راغب کرتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یہ دعوے کتنے درست ہیں؟جی بالکل خبارات اور سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے اس طرح کے اشتہارات بالکل غیر حقیقی اور گمراہ کن ہوتے ہیں۔میرے نزدیک یہ صرف ایک مارکیٹنگ سٹنڈ ہے اور کچھ نہیں ، ان اشتہارات میں کیے گئے دعوے کہ سات دن میں 15 کلو وزن کم ہو جائے یا بغیر ورزش کے چند دنوں میں موٹاپے سے نجات ممکن ہے، سائنسی اعتبار سے درست نہیں ہیں۔ وزن کم کرنے کا عمل بتدریج اور وقت طلب ہوتا ہے، اور اگر اچانک زیادہ وزن کم بھی ہو جائے تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہےجبکہ اکثر ایسے اشتہارات کے ذریعے زیادہ تر غیر معیاری دوائیں یا سپلیمنٹس بیچے جاتے ہیں جو جگر اور گردوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور لمبے عرصے کے لیے صحت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ آخرمیں ہما رے پڑھنے والوں کا کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ چہل قدمی، نیند پوری کرنا اور ذہنی دباؤ سے بچنا بھی وزن کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اسٹریس اور نیند کی کمی غیر ضروری کھانے کی عادت کو بڑھا دیتے ہیںوزن کم کرنے کے لئےسب سے بڑھ کر صبر اور مستقل مزاجی ضروری ہے، کیونکہ صحت مند طریقے سے وزن کم کرنا ہی طویل عرصے تک فائدہ مند اور محفوظ رہتا ہے۔یوگا خاص طور پر موٹاپے میں بہت فائدہ مند ہے۔ ، یوگا یا ورزش ضرور کریں تاکہ کیلوریز جل سکیں،یو نہ صرف وزن گھٹاتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتاہے۔ میرا پیغام یہی ہے کہ موٹاپے کو معمولی مسئلہ نہ سمجھیں۔ یہ صرف خوبصورتی نہیں چھینتا بلکہ جان لیوا بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں، صحت مند کھانا کھائیںاور خوش رہیں۔ یاد رکھیں صحت سب سے بڑی دولت ہے۔

پچھلی پوسٹ

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رحجان برقرار، 100 انڈیکس 554 پوائنٹس کے اضافہ کے بعد 169043.62 پوائنٹس پر پہنچ گیا

اگلی پوسٹ

شکارپور : تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سوئے افراد کو روند ڈالا 7 افراد جاں بحق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
شکارپور : تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سوئے افراد کو روند ڈالا 7 افراد جاں بحق

شکارپور : تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سوئے افراد کو روند ڈالا 7 افراد جاں بحق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper