
لاہور (نمائندہ خصوصی :عالیہ خان)ہماری روزمرہ زندگی میں بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جن کی اہمیت اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ ہم سے چھننے لگتی ہیں بصارت ایسی ہی ایک انمول نعمت ہے۔ دنیا کے رنگ، چہرے، الفاظ اور روشنی کو محسوس کرنے کا ذریعہ یہی آنکھیں ہیں، جو لمحہ بہ لمحہ ہمارے لیے کائنات کو معنی خیز بناتی ہیں۔ مگر یہ نازک عضو بسا اوقات

اچانک پیش آنے والے حادثات کا شکار ہو کر شدید نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔آنکھوں کی حادثاتی چوٹیں ایک ایسا طبی مسئلہ ہے جو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ بروقت طبی مدد ہی وہ فرق پیدا کر سکتی ہے جو بینائی کو بچا بھی سکتی ہے اور کھو بھی سکتی ہے۔ چاہے معاملہ کسی صنعتی حادثے کا ہو، بچوں کے کھیل کے دوران لگنے والی چوٹ ہو، یا کسی تیز دھار

چیز سے آنکھ کو پہنچنے والا نقصان یہ سب لمحوں میں زندگی کے منظرکو دھندلا سکتے ہیں۔اسی اہم موضوع پر ہم نے ملک کے معروف ماہرِامراض چشم، پروفیسر ڈاکٹر محمد معین، ماہر امراضِ چشم، پرنسپل کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز، پرو وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے گفتگو کی انہوں نے نہ صرف حادثاتی چوٹوں کی اقسام اور

پیچیدگیوں کو بیان کیا بلکہ فوری اقدامات، حفاظتی تدابیر اور عوامی شعور اجاگر کرنے پر بھی زور دیا۔ یہ انٹرویو قارئین کے لیے آنکھوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک بیداری کا پیغام ہے، جو بصارت بچانے کی اس خاموش جنگ میں پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔پرو فیسر ڈا کٹر محمد معین کی مکمل گفتگو قارئین کی نذر پیش خدمت ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کے مطابق آنکھ کی

چوٹ محض ایک عام زخم نہیں بلکہ ایک "طبی ایمرجنسی” ہے۔ ایسی حالت میں اگر بروقت اور درست اقدام نہ کیا جائے تو چند لمحوں میں بینائی کا جزوی یا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر معین کے تجربے کے مطابق آنکھ کی ایمرجنسی کی بہت سی صورتیں ایسی ہیں جن میں فوری علاج زندگی بھر کی روشنی بچا سکتا ہے۔ ان میں کیمیکل کا آنکھ میں چلے جانا، تیز دھار یا

نوک دار شے سے چوٹ لگنا، اچانک شدید درد یا نظر کی کمی، خون آ جانا یا آنکھ میں شدید سرخی شامل ہیں۔دیہی اور شہری علاقوں میں آنکھ کی چوٹوں کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ دیہات میں زیادہ تر حادثے زرعی سرگرمیوں، جانوروں سے چوٹ لگنے یا جڑی بوٹیوں کے غلط استعمال سے پیش آتے ہیں، جبکہ شہروں میں صنعتی سرگرمیوں، ویلڈنگ، گرائنڈنگ، یا کھیلوں کے

دوران آنکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ بچوں میں پینسل یا نوکیلے کھلونوں سے چوٹ کے کیسز عام ہیں، اور خواتین میں واشنگ پاؤڈر یا بلیچ جیسے کیمیکل کے چھینٹے حادثاتی چوٹ کا باعث بنتے ہیں۔پروفیسرڈاکٹر معین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی صورت میں آنکھ کو ہرگز نہ رگڑیں، نہ ہی کوئی دوا یا قطرے خود سے استعمال کریں۔ اگر آنکھ میں چوٹ لگ جائے یا کوئی چیز چبھ جائے تو اسےخود گھر پر نکالنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ فوراً نرم کپڑے سے ڈھانپ کر قریبی اسپتال پہنچیں۔ خاص طور پر اگر

آنکھ میں کیمیکل گر جائے تو فوری طور پر آنکھ کو پندرہ سے بیس منٹ تک پانی سے دھونا انتہائی ضروری ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ان کے مطابق ویلڈنگ اور گرائنڈنگ کے دوران حفاظتی چشمے کا استعمال لازم ہے۔ ان سے خارج ہونے والی مضر شعاعیں یا ذرات آنکھ کی سطح یا اندرونی پردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایک لمحے کی لاپرواہی بینائی سے مستقل

محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔بچوں کی حفاظت کے حوالے سے پروفیسر معین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کھیلتے وقت بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں نوکیلے یا دھار دار کھلونے نہ دیں۔ اسکول میں اساتذہ کو بھی تربیت دی جائے تاکہ فوری اقدام کیا جا سکے۔ اسی طرح کچن میں کام کے دوران خواتین کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ دودھ، چائے یا گرم پانی کے برتن چولہے کے

اندرونی کنارے پر رکھے جائیں تاکہ بچوں کی پہنچ سے دور ہوں، اور برتنوں کے ہینڈلز کو اندر کی طرف موڑ کر رکھا جائے۔موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کا استعمال صرف سر کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ آنکھوں کی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہوا میں اڑتے ذرات، کیڑے یا کسی حادثے کی صورت میں آنکھ کی چوٹ سے بچاؤ کے لیے ہیلمٹ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ڈاکٹر

معین ایک اور عام غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض افراد آنکھ میں خارش یا سرخی کو معمولی سمجھ کر بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے دوا یا قطرے استعمال کرتے ہیں، جو بعض اوقات شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنکھ کی سرخی محض الرجی نہیں بلکہ کسی سنگین مرض کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں معاشرے کے ہر طبقے گھریلو خواتین، اساتذہ، مزدور، طلبہ

کو Eye First Aid کی تربیت دینی چاہیے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بروقت قدم اٹھا کر بینائی کو بچایا جا سکے۔ خاص طور پر ایسے مریض جنہیں شوگر یا بلڈ پریشر ہو، انہیں اپنی آنکھوں کا سالانہ معائنہ ضرور کروانا چاہیے تاکہ کسی بھی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔پروفیسر ڈاکٹر معین کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ آنکھ کی چوٹ جتنی معمولی دکھائی دے، اُسے

ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔ بروقت طبی امداد اور ماہرِ چشم کی رہنمائی ہی بصارت بچانے کی ضامن ہے۔پروفیسر معین نے آخر میں پیغام دیتے ہوئے کہاکہ بینائی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جسے صرف چند لمحوں کی تاخیر یا لاعلمی زندگی بھر کے اندھیرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ شہری اور دیہی ہر سطح پر آنکھوں کی صحت سے متعلق سنجیدہ اقدامات، آگاہی، احتیاط اور تربیت ہی روشن کل کی ضمانت ہے۔