• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرویوز

سی سیکشن کا بڑھتا رجحان جب تک ما ں یا بچے کی جان کو خطرہ ناہو ماہر ڈاکٹر سرجری تجویز نہیں کرتا — ڈاکٹر مہناز گوندل

پاکستان میں ہر تین میں سے ایک خاتون سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دے رہی ہے،ایک خاموش خطرہ جو آہستہ آہستہ سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے بعض نجی ہسپتالوں یا غیر تجربہ کار اداروں میں وقت کی بچت، سہولت مالی مقاصدیا فیملی پریشر کی وجہ سے سی سیشن تجویزکرتےہیں بچے کا حرکت ناکرنا، خون آنا، سر درد، پانی کی تھیلی قبل از وقت پھٹ جانا، بلڈ پریشرشوگرکم یا زیادہ ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سےرجوع کریں ڈاکٹر مہناز گوندل ماہر گائنا کالوجسٹ گنگارام ہسپتال لاہورسے خصوصی گفتگو

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اگست 6, 2025
in انٹرویوز
0
سی سیکشن کا بڑھتا رجحان جب تک ما ں یا بچے کی جان کو خطرہ ناہو ماہر ڈاکٹر سرجری تجویز نہیں کرتا  — ڈاکٹر مہناز گوندل
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور(انٹرویو:عالیہ خان)دنیا بھر میں جہاں ہر شعبے میں ترقی ہو رہی ہے وہیں جدید طب کی ترقی نے زچگی کے مراحل کو نسبتاً محفوظ اور سہل بنا دیا ہے، اور انہی طبی سہولیات میں "سیزرین سیکشن” یا سی سیکشن ایک اہم طریقۂ زچگی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ابتدا میں یہ عمل صرف انہی صورتوں میں اختیار کیا جاتا تھا جہاں نارمل ڈلیوری ممکن نہ ہو، جیسے کہ پیچیدہ حمل، بچے کی غلط پوزیشن، یا ماں یا بچے کی جان کو خطرہ ہو۔ مگر گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں سی سیکشن کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور یہ رجحان محض طبی مجبوریوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ سہولت، وقت کی بچت، خوف، سوشل پریشر، اور بعض اوقات تجارتی مفادات کی بنیاد پر بھی سامنے آ رہا ہے۔اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں اب ہر تین میں سے ایک خاتون سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دے رہی ہے۔ کیا یہ رحجان خواتین کی صحت کے لیے سود مند ہے یا ایک خاموش خطرہ جو آہستہ آہستہ سنگین طبی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کو جنم دے رہا ہے؟ کیا خواتین اور ان کے خاندان اس آپریشن کے ممکنہ اثرات، پیچیدگیوں اور بعد از زچگی کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ ہیں؟ کیا ہماری میڈیکل پریکٹس میں مریض کے باخبر فیصلے (Informed Consent) کو اہمیت دی جا رہی ہے؟ان ہی اہم سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہم نے ملک کی معروف ماہرِ امراضِ نسواں گنگا رام ہسپتال لاہور ،ڈاکٹر مہناز گوندل سے، جنہیں نہ صرف گائنی کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے بلکہ وہ پاکستان میں خواتین کی تولیدی صحت کے حوالے سے ایک مؤثر آواز بھی ہیں۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر مہناز گوندل نہ صرف سی سیکشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے اسباب و اثرات پر روشنی ڈالتی ہیں بلکہ خواتین میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے، نارمل ڈلیوری کی اہمیت اجاگر کرنے اور معاشرے میں موجود طبی رویوں کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کرتی ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ! سب سے پہلے آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا۔ ہمارا آج کا موضوع ہے “سیزیرین ڈیلیوری” یا جسے عام زبان میں سی سیکشن” کہا جاتا ہے۔ ہمارے قارئین کو بتائیےکہ سی سیکشن کیا ہے اور کب ضروری ہوتا ہے؟جی شکریہ! سیزیرین ڈیلیوری ایک میڈیکل ضرورت کے تحت کی جانے والی سرجری ہے جس میں بچے کو ماں کے پیٹ کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب نارمل (قدرتی) ڈیلیوری ممکن نہ ہو یا خطرناک ہو جائےیعنی ما ں اور بچے کے حوالے سے کچھ پیچیدگیا ں پیدا ہو جا ئیں۔ مثال کے طور پر، اگر بچے کی پوزیشن درست نہ ہو، زچگی کے دوران دل کی دھڑکن کم ہو جائے، یا ماں کو ہائی بلڈ پریشر، شوگر، یا کوئی اور پیچیدگی ہو، تو سی سیکشن تجویز کیا جاتا ہے تاکہ ماں اور بچے دونوں کی جان محفوظ رہ سکے۔جبکہ اس کی نسبت نارمل ڈلیوری ایک قدرتی پراسس ہو تا ہے جس میں مریض قدرتی درد اور تکلیف کے مر حلے سے گزرتی ہے سی سیکشن کے مقابلے میںنارمل ڈلیوری کے بعد مریض بہت جلد ریکور کر تی ہے اور اس میں بلڈ کا ضیاع بھی بہت کم ہو تا ہے ۔جبکہ سی سیکشن میں ڈلیوری کے لئے ہمیں بہت سا ری باتو ں کو دیکھنا ہوتا ہے مثال کے طور مریض کی میڈیکل ہسٹری کا جا ئزہ لینا ضروری ہوتا ہے کیونکہ آپریشن کے لئے ہمیں مریض کا انتھسیزیا دینا ہوتا ہے پھر اس کی کمر میں سن کرنے والا انجیکشن لگا یا جاتا ہے ۔مگر اس کے لئے بہت ساری چیزوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے مریض کی ایچ پی کم ہو تو مسائل کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے بے ہو شی کے بعد یا کمرمیں انجیکشن لگنے کے بعد مریض کو ٹھیک ہونے میں تھوڑا ٹائم لگتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ!! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹرز بلاوجہ بھی سی سیکشن تجویز کر دیتے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر مہناز گوندل کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ بات کچھ حد تک درست ہے۔ بعض نجی ہسپتالوں یا غیر تجربہ کار اداروں میں وقت کی بچت، سہولت یا مالی مقاصد کی وجہ سے بھی سیزیرین تجویز کیا جاتا ہے۔ مگر ایک پیشہ ور اور ذمہ دار گائناکالوجسٹ کبھی بھی غیر ضروری سرجری نہیں کرتا۔ ہم ہمیشہ نارمل ڈیلیوری کو ترجیح دیتے ہیں، اگر ماں اور بچے کی جان محفوظ ہو۔سی سیکشن کے اضا فے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے آج کل کی خواتین درد برداشت نہیں کر تیں یا ان کی مائیں ان ہیںاس حوالے ذہنی طور پر تیار نہیں کر تیں ان کی خواہش ہو تی ہے کہ ان کی بیٹی فوری طور پر اس تکلیف سے نکل جا ئے دوسرا ڈاکٹرپرمریض کی فیملی کی طرف سے پریشر زیادہ آجا تا ہے کہ کہیں ما ں یا بچے میں سے کسی کو کچھ ہو نا جائے تو اس ڈر کی وجہ سے بھی ڈاکٹرز سی سیکشن کر دیتے ہیں ۔ سی سیکشن کے بعد خواتین کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ڈاکٹر مہناز گوندل نے اس سوال کا جواب دیتے ہو ئے کہا چونکہ یہ ایک بڑا آپریشن ہوتا ہے، اس لیے اس کے بعد جسم پر کچھ اثرات ہو سکتے ہیں۔ زخم کی تکلیف، کمر یا پیٹ کے نچلے حصے میں درد، بیٹھنے یا جھکنے میں دشواری، اور بعض اوقات انفیکشن کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ کچھ خواتین کو کافی دنوں تک نقاہت محسوس ہوتی ہے اور انہیں مکمل آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگلے حمل میں یوٹرس (رحم) کے زخم کی وجہ سے پیچیدگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیا خواتین گھر پر نارمل ڈیلیوری کے لیے کچھ تیاری کر سکتی ہیں؟جی بالکل! اگر حمل نارمل ہو تو خواتین گھر پر بھی کچھ مثبت اقدامات کر سکتی ہیں۔ جیسے متوازن غذا لینا، پانی کا زیادہ استعمال، ہلکی پھلکی واک، اور ذہنی سکون برقرار رکھنا۔ اس کے علاوہ، وقت پر اپنا چیک اپ کرواتے رہنا اور کسی بھی پیچیدگی پر فوری طور پر اپنی ڈاکٹرسے رابطہ کرنا بہت ضروری ہے۔ حمل کے دوران کن علامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟یہ بہت اہم سوال ہے۔ اگر بچہ حرکت کرنا بند کر دے، اچانک بہت زیادہ خون آ جائے، سر میں شدید درد ہو، نظر دھندلا جائے، یا پانی کی تھیلی قبل از وقت پھٹ جائے بلڈ پریشر بڑھ جا ئے یا کم ہو جا ئے اسی طر ح اگر مریض کی شوگر میں اضا فہ ہو تو ان علامات کو نظر انداز ہرگز نہیں کرنا چا ہئےکیونکہ ان میں سے کوئی بھی علامت ماں اور بچے کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔سی سیکشن کے دوران جو کمر میں انجیکشن دیاجاتا ہے، کیا وہ نقصان دہ ہوتا ہے یاہو سکتا ہے؟ڈاکٹر مہناز گوندل نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ یہ انجیکشن “spinal” یا “epidural aneblsthesia” کہلاتا ہے جو کہ عمومی طور پر محفوظ ہوتا ہے۔ یہ درد کم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اور سی سیکشن کے دوران مریضہ ہوش میں رہتی ہے لیکن نیچے کے جسم کو محسوس نہیں کرتی۔ بعض خواتین کو کچھ دنوں تک کمر یا ٹانگوں میں ہلکا درد محسوس ہو سکتا ہے، لیکن یہ عموماً وقتی ہوتا ہے اور مناسب دوائی یا فزیوتھراپی سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ کیا سی سیکشن کے بعد دودھ پلانے میں کوئی دقت پیش آتی ہے؟جی … بتداء میں، اگر ماں کو زیادہ درد یا کمزوری ہو تو تھوڑی دقت ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر سی سیکشن کے بعد بھی دودھ پلانا ممکن اور محفوظ ہے۔ سی سیکشن کے بعد ماں کو کتنے دن آرام کرنا چاہیے؟سی سیکشن کے بعدپہلے دس دن بہت اہم ہو تے ہیں کیونکہ اس دوران مریض کے ٹانکے نہیں کھلتے تو زخم کا خیال رخیال رکھنا زخم کو صاف رکھنا ضروری ہوتا ہے جبکہ مکمل صحت یابی کے لئے کم از کم 6 ہفتے آرام ضروری ہوتا ہے۔ اس دورا ن جیسا کہ میں نے پہلے کہا زخم کا خاص خیال رکھنا چاہیے، بھاری وزن اٹھانے سے پرہیز کرنا چاہیے، اور چلنے پھرنے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ اگر زخم میں سوجن، سرخی یا پیپ آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ سی سیکشن کے بعد کب اگلا حمل محفوظ سمجھا جاتا ہے؟کم از کم ڈیڑھ سال (18 مہینے) کا وقفہ دینا چاہیے تاکہ رحم اور جسم مکمل طور پر صحت یاب ہو سکے۔ اگر وقفہ کم ہو تو اگلی حمل میں رحم کا زخم پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیا سیزیرین کے بعد نارمل ڈیلیوری ممکن ہوتی ہے؟جی ہاں!! بعض صورتوں میں یہ ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ مکمل طبی جانچ اور سابقہ ڈیلیوری کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہر کیس کے لیے الگ طریقہ کار ہوتا ہے۔ آخر میں خواتین کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟میرا خواتین سے یہی کہنا ہے کہ وہ اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیں،حمل کے بعد وقت پر چیک اپ کروائیں، ڈاکٹر سے ہر بات کھل کر کریں، اور بلاوجہ سنی سنائی باتوں پر عمل نہ کریں۔ اگر کسی بھی پیچیدگی کا شک ہو تو فوری رجوع کریں، تاکہ بروقت علاج ممکن ہو۔ سی سیکشن سے نہ گھبرائیں، مگر اسے معمول نہ بنائیں۔ قدرتی طریقے کو ہمیشہ ترجیح دیں

پچھلی پوسٹ

6 ماہ میں ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑگئے غیرملکی میڈیا کی رپورٹ میں دعوی

اگلی پوسٹ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس، جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر پیشرفت کاجائزہ لیا گیا، تعمیر میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کے عالمی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس، جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر پیشرفت کاجائزہ لیا گیا، تعمیر میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کے عالمی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس، جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر پیشرفت کاجائزہ لیا گیا، تعمیر میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کے عالمی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper