رام اللہ۔(انٹرنیشنل ڈیسک):امریکا ایران معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان میں ان علاقوں سے پیچھے ہٹنا پڑے گا جن پر اس نے ایران کےساتھ جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے، اس لیے وہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے۔یہ بات الجزیرہ کی طرف سے جمعرات کو جاری رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف اسرائیلی ایران کو اپنے لیے ایک حقیقی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے تو دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی بات کرتا ہے۔یہ وہ چیز ہے جو اسرائیلیوں کو پریشان کر رہی ہے۔ اسرائیلی اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ نہ صرف انہیں اپنے فوجی حملوں کو محدود کرنا پڑے گا بلکہ انہیں جنوبی لبنان میں ان جگہوں سے پیچھے ہٹنا پڑے گا جہاں وہ اپنے قبضے کو اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے
مزید گہرائی میں تک دھکیل چکے ہیں ۔ ر پورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کو ڈر ہے کہ یہ معاہدہ انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا اور جنوبی لبنان میں ان جگہوں سے نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔اس صورتحال میں اسرائیل نہ صرف جنوبی لبنان پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے لابنگ کرنے کی کوشش کرے گا بلکہ وہ سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا گیا ہے اور اس مفاہمت کی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کی ممکنہ کوششوں پر نظر رکھے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں اور اعلان سے پہلے بھی اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ انہیں حزب اللہ کا ایک ایجنٹ ملا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کی سرزنش کرتے ہوئے کھلے عام یہاں تک کہا گیا کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں آمدہ عام انتخابات کی مہم میں یہ معاملہ انتہائی حساس حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
