لندن۔(انٹرنیشنل ڈیسک):برطانوی حکام نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے 2 امریکی دانشوروں کو اپنے ہاں آنے سے روک دیا ،دوسری جانب معروف برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ کی یونین ڈیبیٹنگ سوسائٹی نے اس اقدام کو برطانیہ میں جمہوریت کا زوال قراردیتے ہوئے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق آکسفورڈ یونین ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر عروہ الرئیس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بولنے والوں کو روکنا جمہوری
زوال سے بڑھ کر ہے ۔ یہ آزادی اظہار کے لیے براہ راست خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے امریکی دانشوروں سینک یغور اور حسن پائیکر کو سفری اور دیگر دستاویزات ہونے کے باوجود آخر وقت پر یہ کہہ کر برطانیہ داخل ہونے سے روک دیا گیا کہ ان کی ملک میں آمد برطانوی شہریوں کے لیے سازگار نہیں۔انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ یونین کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ نظریات کو بحث کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے، فرمان کے ذریعے خاموش نہیں کیا جاتا۔ ہم نے کبھی کسی مقرر کواس کے سیاسی نظریات کی وجہ سے اظہار خیال سے نہیں روکا اور نہ ہی ہم نے ریاست سے اجازت مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس تقریب میں سینک یغور اور حسن پائیکر نے شرکت کرنا تھی اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ یونین اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ بحث ہو۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ تقریر کے لیے برطانوی حکومت کے ویزا کی ضرورت نہیں ہے ۔ امریکی سیاسی مبصر سینک یغور اور حسن پائیکر نے کہا کہ انہیں فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت کی وجہ سے برطانیہ کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

