اقوام متحدہ ۔(انٹرنیشنل ڈیسک):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی امور کے ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات کے دوران ہر 14 منٹ میں ایک شہری جان کی بازی ہارا۔شنہوا کے مطابق یہ انکشاف اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے) کی ڈائریکٹر برائے آپریشنز و ایڈووکیسی ایڈم ووسورنو نے بدھ کے روز سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے”، خاص طور پر جمہوریہ کانگو، سوڈان، یوکرین اور
مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں میں شہریوں کو شدید جانی نقصان کا سامنا ہے۔اسی سلسلے میں بین الادارہ جاتی مستقل کمیٹی (Inter-Agency Standing Committee) کے سربراہان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں جاری جنگوں کے دوران بین الاقوامی، انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ “مختلف جنگی علاقوں میں شہریوں، خصوصاً بچوں، کی ہلاکت، زخمی ہونے اور بے گھر ہونے کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جنگی حکمتِ عملی کے طور پر جنسی تشدد کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے بالخصوص خواتین اور بچیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ان کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔بیان کے مطابق گھروں، سکولوں، عبادت گاہوں، ہسپتالوں، حتیٰ کہ زچگی وارڈز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ پانی کی فراہمی کے نظام، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، بازاروں اور خوراک کی پیداوار سے متعلق ڈھانچے بھی تباہ یا متاثر ہو رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے حکام نے خبردار کیا کہ تنازعات کے باعث بھوک اور قحط میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اکثر محاصرے اور شہری آبادی کو دانستہ بھوکا رکھنے کی حکمتِ عملی سے منسلک ہے۔بیان میں انسانی امداد کے کارکنوں کو درپیش خطرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایک ہزار سے زائد امدادی کارکن مختلف تنازعات میں مارے جا چکے ہیں۔بیان میں زور دیا گیا کہ جنگوں کے بھی اصول ہوتے ہیں، جن کا اطلاق تمام فریقین پر یکساں ہوتا ہے۔ مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر مسلسل عملدرآمد نہ ہونا، جوابدہی کے نظام کا کمزور ہونا اور سنگین مظالم کے باوجود عالمی سطح پر خاموشی اور بے عملی ہے۔
