اوسلو۔(نمائندہ خصوصی):ناروے میں مقیم کشمیریوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ناروے کی پارلیمنٹ کے دورہ کے موقع پر پارلیمنٹ کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے بھارتی کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے نریندر مودی کے ایک نام نہاد جمہوری ملک کے وزیر اعظم ہونے کے امیج کی حقیقت کو دنیا کے سامنےتار تار کر دیا۔ ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین نے بین الاقوامی برادری کوبھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) میں آزادی اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد سے آگاہ کیا۔ بھارتی وزیر اعظم کی سفارتی تقاریب کے باوجود، مظاہرین نے واضح کیا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے مکینوں پر بھارت کے سخت فوجی دبائو، نگرانی اور سیاسی پابندیوں کے باوجود حق خودارادیت کا ان کا مطالبہ پوری دنیا میں زندہ ہے اور اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کے خلاف شدید
نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ ان کو دیا گیا "گرینڈ کراس” ایوارڈ ان کے ہاتھوں پر لگے کشمیریوں اور اقلیتوں کے خون کو نہیں دھو سکتا۔مظاہرین نے مودی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک جابر رہنما قرار دیا جس کے ہندوتوا سے جڑے ایجنڈے نے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر دباؤ میں شدید ااضافہ کر دیا ہے۔ریلی کے دوران مظاہرین نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرون ملک سفارتی دورے اور امیج بنانے کی مہمات کشمیر ی خاندانوں کےغم و غصے اور درد کو نہیں مٹا سکتے جو برسوں سے کریک ڈاؤن، نظربندیوں، خوف اور میڈیا کے بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہےہیں ۔مقررین نے کہا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک گہرا انسانی مسئلہ ہے جس سےوہ لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں جن کی سیاسی آوازیں گزشتہ کئی دہائیوں سے دبائی جارہی ہیں۔انہوں نے ناروے اور
وسیع تر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر کو "سائیڈ ایشو” سمجھنا بند کریں، لاکھوں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی والے علاقے میں مقیم لوگوں کی زندگیوں کے روزہ مرہ حقائق کا ادراک کریں اوران کے لیے حق خودارادیت کے وعدے کی حمایت کو جاری رکھیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیری برسوں کے جبر اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی شناخت یا اپنی آواز سے دستبردار نہیں ہوئے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقار اور اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے حق کی جدوجہد کی آواز بین الاقوامی سطح پر گونجتی رہے گی اور رسمی سفارت کاری کے ذریعے حالات کو معمول پر لانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائے گی ۔

