جنیوا ۔(نمائندہ خصوصی):عالمی ادارۂ صحت کی ماہرِ وبائی امراض ماریا وان کرخوف نے ہنٹا وائرس سے متعلق بڑھتی ہوئی خبروں اور خدشات پر عوام سے تحمل اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔تاس کے مطابق انہوں نے کہا کہ کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” پر اینڈیز وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد میڈیا کی بھرپور توجہ کی وجہ سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وائرس کا خطرہ بڑھ رہا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جہاز پر موجود تمام افراد کو فی الحال “ہائی رسک کانٹیکٹس” قرار
دیا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر دنیا کی آبادی اور کینری جزائر کے رہائشیوں کے لیے خطرہ کم ہے۔ماہرین کے مطابق اصل خطرہ جہاز کے اندر موجود افراد کے لیے ہے جو ممکنہ طور پر متاثرہ مسافروں کے قریب رہے ہوں، لیکن ابھی ان میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت نے تصدیق کی تھی کہ جہاز پر ہنٹا وائرس کے 8 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس “اینڈیز اسٹرین” ہے جو قریبی انسانی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔تقریباً 150 افراد پر مشتمل یہ کروز شپ ارجنٹینا سے روانہ ہو کر بحرِ اوقیانوس کے مختلف مقامات سے گزرتی ہوئی کینری جزائر کی جانب بڑھ رہی ہے اور جلد ٹینریف کے گریناڈیلا بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے زور دیا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مسافروں کی محفوظ منتقلی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔


