لندن (نمائندہ خصوصی):برطانیہ کی سیاست میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاںوزیراعظم کیئر اسٹارمر کی عوامی مقبولیت اور انتخابی مہم میں ان کی محدود شرکت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔تاس کے مطابق ڈیلی ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا کہ برc کو مبینہ طور پر اپنی انتہائی کم ذاتی مقبولیت کے باعث حکمران لیبر پارٹی کی انتخابی مہم سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔7 مئی کو برطانیہ میں مقامی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ان انتخابات میں 134 مقامی کونسلز کی 4,800 نشستوں پر مقابلہ ہوگا جبکہ ویلز اور سکاٹ لینڈ کی پارلیمانوں کی تشکیل بھی طے ہوگی۔اخبار کے مطابق لیبر پارٹی کو انگلینڈ کی مختلف شہری کونسلز میں تقریباً 2,000 نشستوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے اور پہلی بار تاریخ میں اس کے ویلش پارلیمنٹ پر بھی کنٹرول کھونے کا امکان
ظاہر کیا جا رہا ہے۔ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق کیئر اسٹارمر کی منفی شبیہ کے باعث لیبر پارٹی کے اراکین نے خود کو وزیر اعظم سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان کے خلاف شدید ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور یہ مختلف طبقات میں پھیل چکی ہے۔ انہیں غیر مخلص اور دوغلا سمجھا جاتا ہے۔اسٹارمر کے حامی نہیں، بلکہ مخالف زیادہ ہیں،یہ حیران کن بات ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران کیئر اسٹارمر نے آنے والے انتخابات سے متعلق صرف 11 انتخابی سرگرمیوں میں شرکت کی ہے۔ اس کے برعکس کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے 41 اور ریفارم یوکے کے رہنما نائجل فراج نے 71 انتخابی دورے کیے ہیں۔ایک رکن پارلیمنٹ کے مطابق سچ یہ ہے کہ زیادہ تر لیبر کونسلرز نہیں چاہتے کہ کیئر اسٹارمر ان کے علاقوں میں انتخابی مہم میں شامل ہوں، کیونکہ ان کی موجودگی ووٹ کم کر سکتی ہے اور مقامی سطح پر ان کی محنت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ایک اور لیبر رکن نے بھی اسی خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساتھیوں کو یہ تاثر ہے کہ اسٹارمر انتخابی مہم میں فعال نہیں ہیں اور اکثر انہیں اپنے ووٹرز کے قریب نہیں دیکھنا چاہتے۔

