لندن ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام مانیٹرنگ ڈیسک انٹرنیشنل ڈیسک )پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھکو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے امریکہ کو متنبہ کیے جانے کے بعد کہ اسے جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اب ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل 10 نکاتی تجاویز کی، جو کہ متفقہ فریم ورک ہے، تین اہم شقوں کی خلاف ورزیکی گئی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو اسلام آباد میں متوقع ہیں جن
کے لیے امریکی صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطی کے لیے اپنے اہلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا انتخاب کیا ہے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو پاکستانی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی تاہم رات گئے محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز وہ قابلِ عمل بنیاد ہے جس پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تاہم، ان تجاویز کی تین شقوں کی اب تک خلاف ورزی کر دی گئی ہے۔ایرانی سپیکر کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں میں لبنان میں جنگ بندی نہ کرنے اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار کے علاوہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی شامل ہیں۔باقر قالیباف نے کہا کہ وہی ’قابلِ عمل بنیاد جس پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں‘ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی واضح طور پر پامال کر دی گئی ہے اور ایسی صورتحال میں، دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول چیز ہیں۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘ایرنی وزیرِ خارجہ نے اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ایران
اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح اور دوٹوک ہیں، امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’دونوں راستے ایک ساتھ اختیار نہیں کیے جا سکتے۔‘عباس عراقچی کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’دنیا لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔‘

