اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):مودی کے ہندوتوا نظریے کےخلاف اندرونی بغاوت کے بعد ہندو انتہا پسند تنظیموں کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں ہو گیا جن کی بڑھتی سرگرمیاں بھارت سمیت پڑوسی ممالک کے امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ بن گئیں،مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے ہندوتواتنظیموں کو طاقتور ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا ۔بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ملک میں ہونے والے بم دھماکوں میں آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے کردار کی تحقیقات پرآوازیں اٹھنے لگیں۔سابق آر ایس ایس رہنما یشونت سہدیَو شندے نےآر ایس ایس، وشو اہندو پریشد اور
بجرنگ دل کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔ دی وائر کے مطابق سابق آر ایس ایس رہنمانے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہونے والی شرپسند کارروائیوں کا تربیتی نیٹ ورک آر ایس ایس کی قیادت میں چلایا جاتا ہے۔سی بی آئی کے شواہد کے باوجود بی جے پی نواز عدالتوں میں ہندوتوا تنظیموں کےخلاف مقدمات بریت پر ختم ہو جاتے ہیں ۔سابق آر ایس ایس رہنما نے کہا کہ امن کے دشمن وی ایچ پی رہنما ملند پراندے کی نگرانی میں تمام آر ایس ایس کارکنوں کو بم بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بھارتی سیاسی تجزیہ کار شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی پرتشدد سرگرمیاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی بڑھانے کی طویل تاریخ رکھتی ہیں ۔بھارتی سیاسی تجزیہ کار راجو پارولیکر کے مطابق اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے باعث آر ایس ایس دیگر دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ خطرناک بن چکی ہے۔

