نئی دہلی ( نیوز ڈیسک نمائندہ خصوصی ;بی بی سی اردو ڈاٹ کام)دہلی کے علاقے جنتر منتر کی ہیں، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن ملک میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے احتجاج کر رہے ہیںکے لیے احتجاج کر رہے ہیںایک وائرل ویڈیو میں پولیس اہلکار ایک لڑکی کو تھپڑ مار رہا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں ایک انسپکٹر رینک کا پولیس افسر ایک خاتون کو چھڑی مار رہا ہے اور وہ خاتون وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ وہ ویڈیوز ہیں جو مبینہ طور پر انڈین دارالحکومت دہلی کے علاقے جنتر منتر کی ہیں، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن ملک
میںدہلی کے علاقے جنتر منتر کی ہیں، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن ملک میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے احتجاج کر رہے ہیںعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے احتجاج کر رہے ہیںبی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا، تاہم دہلی پولیس ان ویڈیوز کی وجہ سے ان الزامات کی زد میں ہے کہ وہ بغیر کسی تفریق کے خواتین سمیت نوجوان طلبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔دہلی پولیس پر یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے۔ تاہم پولیس ان الزامات کی تردید کر رہی ہے۔پولیس پر الزام ہے کہ اس نے نہ صرف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا بلکہ وہاں سے جانے والے مظاہرین کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا۔یہ احتجاج داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف
گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور طلبہ وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔جنتر منتر پر احتجاج کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسی روز نے پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔مظاہرے کے دوران کئی افراد سر، آنکھوں اور جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے ساتھ ہسپتالوں میں داخل کیے ہیں۔ایک 21 سالہ خاتون شدید زخمی حالت میں دہلی کے آر ایم ایل ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حالت اتنی تشویشناک تھی کہ
انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔کچھ تصاویر اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کو دیکھا جا سکتا ہے۔پارلیمنٹ سٹریٹ تھانے کے قریب ایک پولیس اہلکار کی آنکھ پر چوٹ کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی۔میڈیا کے پوچھنے پر پولیس اہلکار نے کہا کہ مجھے ایک پتھر لگا، میری آنکھ زخمی ہوگئی، میں بیریکیڈ پر کھڑا تھا، سامن سے پتھر لگا۔20 جولائی کو مارچ سے قبل دلّی پولیس نے انڈین سول سروس کوڈ کی دفعہ 63 کے تحت دہلی ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کر دیے تھے۔ دہلی پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مارچ کے
لیے نہ تو کوئی اجازت طلب کی گئی تھی اور نہ ہی کوئی اجازت دی گئی تھی۔لیکن دوسری جانب 20 جولائی کی صبح سے ہی بڑی تعداد میں مظاہرین جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔پیر کے روز دہلی کے عین مرکز میں جو کچھ ہوا اور جس نوعیت کی کارروائی کی گئی، اس پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔لیکن اس دن جنتر منتر، جن پتھ، کناٹ پلیس اور آس پاس کے دیگر علاقوں میں جو کچھ ہوا، اس کی ویڈیوز اور تصاویر سے سوشل میڈیا بھرا ہوا تھا۔مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے نہ صرف آنسو گیس کے شیل استعمال کیے گئے بلکہ سکیورٹی اہلکاروں کو ان کے خلاف لاٹھیاں استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ متعدد ویڈیوز میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی نیلی وردی پہنے سکیورٹی اہلکار لوگوں
کو لاٹھیوں سے مارتے اور بھگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کو لاٹھیاں تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوال کرنے پر وہ لوگوں پر جارحانہ انداز میں حملہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔دہلی پولیس نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرین نے نئی دہلی کے علاقے میں جارحانہ اور پرتشدد رویہ اختیار کیا۔پولیس کی جانب سے بار بار تنبیہ کے باوجود اُنھوں نے منتشر ہونے سے انکار کر دیا۔ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھروں اور دیگر اشیا سے حملہ کیا، پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی، پولیس اور سرکاری گاڑیوں پر حملہ کیا اور بڑے پیمانے پر تشدد کا سہارا لیا۔‘پولیس نے مزید کہا کہ ’اس واقعے میں 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں سینئر پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ اس واقعے کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً 60 مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ تقریباً 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور مناسب قانونی
کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔‘دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ پولیس نے پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا۔پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ وہ اپنے حامیوں، خصوصاً ان لڑکیوں سے معذرت کرتے ہیں جنھیں مرد پولیس اہلکاروں نے بے رحمی سے مارا پیٹا۔کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کارروائی پر معافی مانگنی چاہیے۔اُنھوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم اس کارروائی پر خاموش کیوں ہیں؟\سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ ’طلبہ کے کپڑے پھاڑ دیے گئے، ان کے ہاتھ توڑ دیے گئے اور ان کے
سر پھوڑ دیے گئے۔‘عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کے روز کہا کہ ’مودی حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ کسی کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے، اس کا مقصد بچوں میں خوف پیدا کرنا تھا تاکہ ڈر بٹھایا جا سکے۔‘جنتر منتر کی کئی ویڈیوز میں لاٹھیوں سے لیس سادہ لباس میں مبینہ پولیس افسران کو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں سے جب ان کے سادہ کپڑوں اور چہرے کو ڈھانپنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھے گئے۔اس سوال پر کہ آیا سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکار بھی لاٹھی چارج کر سکتے ہیں؟بی بی سی نے اتر پردیش کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس او پی سنگھ سے بات کی۔او پی سنگھ نے کہا کہ ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ سادہ لباس میں تعینات افراد کو پولیسنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ لاٹھی استعمال
نہیں کر سکتے اور نہ ہی گولیاں چلا سکتے ہیں۔‘لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب حالات اچانک تبدیل ہو جائیں تو سینئر پولیس افسر سادہ لباس میں موقع پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرتی ہے تاکہ اگر کوئی الزام سامنے آئے تو اس میں مدد مل سکے۔پولیس اہلکاروں کو لاٹھی چارج کے حوالے سے دی جانے والی ہدایات کے بارے میں او پی سنگھ نے کہا کہ ’یہ نہیں بتایا جاتا کہ لاٹھی جسم کے کس حصے پر استعمال کرنی ہے، لیکن جو قانونی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہ کم سے کم طاقت کا استعمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے ایسے حصے پر ضرب لگائی جائے جو کسی بھی صورت جان لیوا نہ ہو۔‘انڈیا کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے جس میں وہ دلی میں وزیر تعلیم کے استعفے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حمایت کر رہے ہیں۔اس بیان میں نصیر
الدین شاہ نے ملک کی رہنمائی کرنے والوں کو ’جاہل، ناقابل اور بے رحم‘ قرار دیا جبکہ طلبہ سے اپنے حق کے لیے لڑنے کی بات بھی کہی۔دراصل یہ احتجاج میڈیکل کالجوں میں داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ 20 جولائی کو پارلیمان کی جانب مظاہرین کے مارچ میں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد ملک کے دوسرے حصوں میں بھی احتجاج نظر آ رہا ہے۔منگل کے روز کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم ہاؤس کے پاس مظاہرہ کیا اور وزیر تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ میں ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔لیکن اس تنازعے پر بالی وڈ کی معروف شخصیات منقسم دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف نصیر الدین شاہ، پرکاش راج، شبانہ اعظمی، سوارا بھاسکر، سوہا علی خان، سونو سود، دیا مرزا، رتیش اور جنیلیا دیش مکھ اور سوناکشی سنہا جیسے فنکار طلبہ کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔
مگر دوسری طرف اداکارہ کنگنا رناوت، منوج تیواری اور اداکار روی کشن کو حکومت کی حمایت میں بیانات پر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا ہے۔بعض فنکار خاموش تو کئی اپنے بیانات میں محتاط بھی رہے۔ جیسے اداکار انوپم کھیر اور اداکارہ پریتی زنٹا نے طلبہ کی حمایت ضرور کی ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ ان کے احتجاج کو کہیں ہائی جیک تو نہیں کیاجا رہا ہے۔دوسری جانب 71 سالہ اداکار انوپم کھیر، جنھیں مبصرین مودی حکومت کا حامی سمجھتے ہیں، نے نے کہا کہ وہ طلبہ کی مایوسی اور بے چینی کو سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی کبھی ایک طالب علم تھے اور ان کے بھی اپنے خواب اور امنگیں تھیں۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’میری نظر میں طلبہ کی تحریکیں معاشرے کی سب سے سچی آواز ہوتی ہیں۔ یہ ذاتی مفادات سے نہیں چلتی ہیں۔ انھیں اپنے مستقبل کی فکر، اپنے حقوق کے تحفظ کی خواہش اور ایک بہتر قوم کی تعمیر کے خواب سے تحریک ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں دل و جان سے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘تاہم انوپم کھیر نے خبردار کیا کہ اس تحریک میں بیرونی سیاسی موقع پرست افراد کی شمولیت بڑھنے لگی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’جس لمحے آپ کی تحریک میں باہر کے لوگ داخل ہونا شروع ہو جائیں، ایسے
سیاسی موقع پرست جو ہر احتجاج میں اپنی موجودگی یقینی بناتے ہیں، اور جن کا مقصد آپ کا موقف نہیں بلکہ اپنا ایجنڈا ہوتا ہے، تو وہی لمحہ ہے جب آپ کو محتاط ہو جانا چاہیے۔‘پریتی زنٹا نے لکھا کہ ’اگرچہ اپنے طلبہ کی حمایت کرنا اور ایسی تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنا اہم ہے جو ہماری نوجوان نسل کے مستقبل پر مثبت اثر ڈالیں، لیکن یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ طلبہ کے پُرامن احتجاج کو ملک دشمن عناصر یرغمال نہ بنائیں، جو انتشار پھیلانے اور احتجاج کی اصل نوعیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘انھوں نے مزید لکھا کہ ’آن لائن پر اتنی نفرت اور تقسیم دیکھ کر مجھے یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ کیا ہمارے ملک کے اندر اور باہر موجود منفی عناصر پہلے ہی ہمارے طلبہ کے غصے اور مایوسی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کر چکے ہیں۔‘اداکارہ اور رکن پارلیمان کنگنا رناوت نے پارلیمان کی جانب مارچ کے بعد خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ قوم کے
لیے انتہائی تشویش کا معاملہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مظاہرین کس طرح دھمکیاں دے رہے ہیں، اور پھر راہل گاندھی یہ اقدام کرتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے شدید فکر کی بات ہے۔‘’جہاں تک نیٹ کا تعلق ہے، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو استعفیٰ کیوں دینا چاہیے؟ وہ دنیا کے سب سے مقبول رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ خود وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں، کیا ہم اس لاڈلے اور مراعات یافتہ نوجوان کو وزیرِ اعظم بنا دیں؟ یہ کیسی مانگ ہے؟‘اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ، جنھوں نے اس سے قبل خود کو اس احتجاج سے الگ رکھا تھا، نے منگل کے روز طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی پر تنقید کی۔گلوکار نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر لکھا: ’جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ طلبہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔‘عوام کی آواز کو ’خدا کی آواز‘ قرار دیتے ہوئے، دوسانجھ نے حکام سے اپیل کی کہ وہ ’طلبہ کے مسائل اور شکایات کو سنیں۔‘انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کسانوں کی تحریک کے دوران جب انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا تو انھیں ’ملک دشمن‘ کہا گیا تھا۔ گلوکار نے کہا کہ اس کی وجہ سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور اب بھی اگر وہ اس معاملے پر بولیں گے تو ’انھیں دوبارہ ملک دشمن کہا جائے گا۔‘اسی طرح اداکار رتیش اور جنیلیا دیشمکھ نے ایکس پر لکھا: ’ہم اپنے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی آواز سنی جانی چاہیے، بلند، واضح اور بے خوف انداز میں۔ وہ ہماری جمہوریت کی دھڑکن ہیں اور ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں۔‘’آئیے ان کی بات سنیں، ان کی حمایت کریں اور انھیں بااختیار بنائیں۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی، ہمت اور خواب اس انڈیا کی تشکیل کریں گے جسے ہم تعمیر کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔‘اداکار
پرکاش راج اور اداکارہ شبانہ اعظمی نے تو جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے والوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اداکار اور رکن پارلیمان روی کشن نے ’سخت سے سخت کارروائی‘ کی دھمکی دیتے ہوئے ’نیٹ اخبار‘ کا ذکر کیا۔ ان کے اس بیان کے بعد صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ نیٹ میڈیکل میں داخلے کا امتحان ہے، کوئی اخبار نہیں۔اداکارہ ہما قریشی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’احتجاج کی جو تصاویر اور مناظر انھوں نے دیکھے ہیں، وہ ایک طویل عرصے تک ان کے ذہن میں نقش رہیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین کے ساتھ ’اتنی سختی، تشدد اور لاٹھی چارج ہوتے دیکھ کر انھیں گہرے دکھ اور افسوس کا احساس ہوا ہے۔‘ہما قریشی کے مطابق
پُرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ’اس قسم کا برتاؤ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘بھارتی لوک سبھا میں لیڈر آف دی اپوزیشن اور کانگریس پارٹی کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے بھارتی تعلیمی نظام پر سخت تنقید کی اور اس نظام کو دھاندلی زدہ اور مہنگا قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم طلبہ کے احساسات اور کوششوں سے سو فیصد متفق ہیں، طلبا کے ساتھ کچھ روز پہلے جو کچھ کیا گیا اس کے نتائج تو ہونے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہمارا تعلیمی نظام نہ صرف دھاندلی زدہ بلکہ ناقابل برداشت حد تک مہنگا ہوچکا، داخلوں کے امتحان کیلئے سرکاری تعلیمی بجٹ جتنی رقم ہی خرچ کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلوں کے امتحان کیلئے اتنا زیادہ خرچہ خاندانوں سے لوٹ مار کرنا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ اتنی رقم بٹور کر پھر طلبا کو بتاتے ہیں کہ پرچہ لیک ہوگیا ہے، ہمارے نوجوانوں کے سڑکوں پر نکلنے کی یہ وجہ بالکل جائز ہے۔
