• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل افیئرز انڈیا

کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاج ۔جین زی کی بغاوت میں تبدیل ۔مودی کا گھیراؤ ۔نوجوانوں میں غم وغصہ بڑھنے لگا

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی ۔ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جہاں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے پلیٹ فارم سے ابھرنے والا غصہ حکومت کے لیے ایک نمایاں چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 22, 2026
in انڈیا
0
کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاج ۔جین زی کی بغاوت میں تبدیل ۔مودی کا گھیراؤ ۔نوجوانوں میں غم وغصہ بڑھنے لگا
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک; بی بی سی اردو ڈاٹ کام)نوجوانوں کی نمائندہ تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک سےبھارت میں جین زی کی بغاوت کے بعد مودی کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا احتجاج میں شدت، مودی حکومت کو تیسری مدت کا بڑا چیلنج درپیش، نوجوانوں میں غم وغصہ بڑھنے لگا، تفصیلات کے مطابق بھارتی نوجوانوں کی نمائندہ تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک نےامتحانی اسکینڈل سے اٹھ کر حکومتی احتساب کا مطالبہ کردیا،سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی ۔ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جہاں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے پلیٹ فارم سے ابھرنے والا غصہ حکومت کے لیے ایک نمایاں چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تحریک وزیراعظم مودی کی تیسری مدت میں اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ تصور کی جا رہی ہے، جس کی بنیاد امتحانی اسکینڈل، بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد ہے۔پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ رہی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تصادم میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل تھے، جبکہ شہر کے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ معطل کیا گیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے۔تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اسے وسیع پیمانے پر جنریشن زی کی آواز قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی، مگر تیزی سے سڑکوں کی ایک منظم احتجاجی لہر میں تبدیل ہو گئی، جو نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران کے خلاف گہرے غصے کی عکاسی کرتی ہے۔انڈیا کا دارالحکومت دہلی کئی دنوں سے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ گذشتہ روز دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شامل دسیوں ہزار لوگوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جسے قابو میں کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھیوں، ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔اس کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیںدہلی پولیس نے الزام لگایا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں ان کے 118 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد بھی منگل کو ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ گذشتہ روز ہونے والی پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ بے جا طاقت کے استعال کی مذمت کی جا رہی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پرامن احتجاج کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پرطاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا گیا اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔دراصل یہ احتجاج داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور سٹوڈنٹس وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔لیکن اس بھوک ہڑتال میں ان کے علاوہ تقریبا نصف درجن دیگر طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں، جن میں سے تین تو پہلے ہی ہسپتال منتقل ہو گئے تھے لیکن تین طلبہ نیہا بورا، امین امیتوج اور منیش کمار نے سوموار کو 23 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد اراکین پارلیمان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ماہرینِ تعلیم کی اپیلوں پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اگرچہ اس کی نوعیت اور صورت مختلف ہوگی۔ ان تینوں طلبہ و طالبات کا تعلق آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) سے ہےان طلبا نے اپنی بھوک ہڑتال اسی دن شروع کی تھی جس دن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ یہ احتجاج نوجوانوں کے ایک خود ساختہ پلیٹفارم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری ہے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ کل کے مظاہرے کے بعد یہ کسی ایک جماعت کا احتجاج نہیں رہا بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ملک میں موجودہ تعلیمی صورت حال سے مایوس نوجوانوں کے احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ان تینوں طلبہ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرنے والوں میں ارکانِ پارلیمان منوج جھا، راجارام سنگھ اور امرارام کے ساتھ سماج کارکن یوگیندر یادو، وکیل پرشانت بھوشن، پروفیسر اتُل سود اور اداکار پرکاش راج اور شبانہ اعظمی بھی شامل تھے۔بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا نے کہا: ’لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے ہجوم کو دیکھ کر ہمیں جس قدر خوشی ہوئی، وہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ تعلیم کے مسئلے پر اس قدر مضبوط عوامی بیداری اور تحریک کا خاص طور پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔‘انھوں نے سوموار (20 جولائی 2026) کو مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ’یہ جدوجہد ان کے اپنے بچوں کے لیے ہے، جو ایک دن ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کا لاٹھی چارج صرف ہم پر نہیں، بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک کاساتھ دیں، کیونکہ بھوک ہڑتال کے خاتمے کے بعد یہ جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘دوسری جانب طلبہ یونین آئیسا نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’طلبہ رہنماؤں نے انتہائی بہادری کے ساتھ یہ جدوجہد کی ہے۔ ان سب کے جسمانی وزن میں 12 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی، ان کے خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک کم رہی، اور ان کے اعضا پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں نے ان کے لیے انفرادی غذائی منصوبے تیار کیے ہیں تاکہ انھیں دوبارہ خوراک شروع کرنے کے بعد ہونے والی طبی پیچیدگی، یعنی ’ریفیڈنگ سنڈروم‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔آئیسا سے تعلق رکھنے والے جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر این سائی بالاجی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک ماہ طویل مہم چلائیں گے، جس میں جنتر منتر پر پیش کیے گئے مطالبات کو دہرایا جائے گا۔احتجاج کرنے والوں کے تین مطالبات ہیں جس کا اظہار انھوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات میں بھی کیا۔ سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور امیتابھ رنکا نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر مسٹر نڈا کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے مطالبات کا ذکر کیا ہے۔دونوں ترجمان کی طرف سے جے پی نڈا کو پیش کردہ مبینہ خط میں تین مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔پہلا مطالبہ سونم وانگچک کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کا ہے اور یہ یقین دہانی بھی مانگی گئی ہے کہ احتجاج کے حوالے سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے۔دوسرا مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا برخاستگی کے متعلق ہے۔جبکہ تیسرا مطالبہ میڈیکل میں داخلے کے امتحان ’نیٹ‘ 2026 کے پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کا ہے۔ترجمان کے مطابق جے پی نڈا کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب سطح پر بات کریں گے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا ہے۔نیہا بورا دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کا تعلق شمالی انڈین ریاست اتراکھنڈ سے ہے۔وہ جے این یو کے سکول آف آرٹس اینڈ ایستیٹھکس میں تحقیق کر رہی ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے دہلی کی امبیڈکر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ جے این یو میں اسسٹنٹ پروفیسر اور احتجاج پر مشہور کتاب ’باڈی آن دی بیریکیڈز‘ کے مصنف برہم پرکاش کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔وہ بائيں بازو کی جماعت سی پی آئی ایم ایل سے تعلق رکھنے والی طلبا کی جماعت آئیسا کی قومی صدر بھی ہیں۔اس سے قبل نیہا نے جنتر منتر پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج نیشنل ایجوکیشن پالیسی متعارف کرا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی تعلیمی پالیسی سنہ 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس میں حکومت کی جوابدہی کو ختم کر دیا گیا اور یہ ایک ایسے ماحول کی آبیاری کرتا ہے جہاں بدعنوانی اور پرچے لیک ہوں۔‘

پچھلی پوسٹ

گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نو منتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہیں،وزیراعظم شہباز شریف

اگلی پوسٹ

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ داخلہ کی ملاقات

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ داخلہ کی ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ داخلہ کی ملاقات

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper