اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بھارتی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، معاشی ترقی کا من گھڑت بیانیہ بےنقاب ہو گیا۔نام نہاد 4 ٹریلین ڈالر کی معاشی طاقت کے دعویدار بھارت کو ایک علاقائی جنگ نے شدید بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔مودی حکومت نے بھارتی معیشت کی موجودہ سنگین صورتحال کا
ملبہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ڈال دیا ۔بھارتی جریدہ فرنٹ لائن کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مودی نے بدحال صنعت، تجارتی خسارے اور تکنیکی تنزلی کے بعد معاشی بحران کا بوجھ بھارتی مزدور طبقے پر منتقل کر دیا ہے۔بی جے پی نے امریکی تجارتی معاہدہ کیلئے روسی تیل کی خریداری محدود کر کے معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ کر لیا۔
فرنٹ لائن کے مطابق مودی نے اسرائیل سے دفاعی معاہدوں کیلئے ایران جیسے آزمودہ اتحادی کو نظرانداز کر دیا، بھارتی عوام نااہل حکمران اشرافیہ کی سیاسی غداریوں کی قیمت ادا کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں خوراک، ایندھن اور کھاد سبسڈی کا حصہ 17۔2016 میں 11.7 فیصد سے کم ہو کر25۔2024میں صرف 7.9 فیصد رہ گیا۔رپورٹ کے
مطابق کارپوریٹ سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 13.36 فیصد سے کم ہو کر 11.24 فیصد پر آگئی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے وقتی سیاسی فائدے کیلئے عوام، مزدور طبقے اور ریاستی اداروں پر مسلسل معاشی دباؤ ڈال دیا ،بھارتی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور تجارتی خسارے نے مودی کی نام نہاد تیسری بڑی معیشت کا پہیہ جام کر دیا ہے۔

