اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):ایران میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے بھارت کا مفاد پرست چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب کر دیا۔ مفاد پرست بھارت نے ایک مرتبہ پھر روسی تیل کی خریداری پر غور شروع کر دیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے
مطابق ایران میں پیدا ہونے والے بحران نے بھارتی حکومت اور ریاستی ریفائنرز کو ہنگامی منصوبوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ عالمی جریدہ بلومبرگ کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد سے بھارت روسی تیل کا سب سے اہم خریدار رہا ہے۔ امریکی دبائو اور تجارتی معاہدے کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری روک دینے کی حامی بھری تھی۔ایران میں اسرائیل کی جارحیت کے بعد بھارتی ریفائنرز سعودی آرامکو سے خام تیل کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق بلومبرگ کی
رپورٹ اس تضاد کو نمایاں کیاگیاہے کہ بھارت عالمی دبائو اور تجارتی مفادات کے درمیان مسلسل دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ایران کے ساتھ دوستی کے دعویداربھارت نے کشیدگی کے بعد اپنارخ تبدل کرلیا ہے ، جسے سفارتی حلقوں میں مودی حکومت کا دوغلا پن قراردیاجا رہا ہے۔بھارت امریکہ اور روس کے درمیان موقع پرستی کی پالیسی اپنا رہا ہے، جس سے اس کی خارجہ پالیسی غیر مستقل اور شدید تنقید کے قابل بن گئی ہے۔
